پاکستان میں دہشت گردی کیلئے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے، اسحاق ڈار

حال نیوز۔۔۔۔۔پاکستان میں دہشت گردی کیلئے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے،  ملک میں دہشت گردی کے حوالے سے تمام اداروں کو بلا کر بریفنگ لی جائے‘ افغانستان سے ایک مطالبہ کیا تھا کہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں اور ٹی ٹی پی کو کنٹرول کریں۔ وزیر خارجہ و ڈپٹی وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے حوالے سے تمام اداروں کو بلا کر بریفنگ لی جائے‘ 2021سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے‘پاکستان نے چار سال کے بعد کھلے دل سے افغانستان کے ساتھ تجارت،افغان مہاجرین اور دیگر مسائل پر بات کی اور اس پر ہماری جانب سے عمل درآمد کیا جاچکا ہے۔ اس حوالے سے افغان حکومت کے کابینہ ممبران اور اہم حکومتی عہدیداران سے ملاقاتیں ہوئیں ہم نے ان سے ایک مطالبہ کیا تھا کہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں اور ٹی ٹی پی کو کنٹرول کریں۔

ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ازبکستان کے مابین ریل کا ایک معاہدہ بھی دستخط کیا گیا اور افغان حکومت نے اس معاہدے کو بھی سراہا ہم نے ان سے دوبارہ کہا کہ افغانستان کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ تیسری بار چین کی درخواست پر کابل میں میٹنگ کی اور ہماری طرف سے مکمل تعاون ہے مگر دوسری جانب ہمیں اپنے فوجیوں اور عوام کی لاشیں اٹھانی پڑتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے خلاف جہاد پر اربوں روپے کے اخراجات ہوئے ہیں ہم نے ضرب عضب اور اپریشن رد الفساد اپریشن کیا اسی طرح کراچی میں آپریشن ہوا جس سے کراچی کی رونقیں بحال ہوئی اور اس کے بعد سے دہشت گردی میں بہت زیادہ کمی ہوئی تھی مگر اب اس میں ساڑے چھ سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اس میں ہماری اپنی غلطی ہے ہم نے وہاں پر چائے پی اور اپنے سرحدیں کھول دیں اور اس وقت سو سے زیادہ جرائم پیشہ دہشت گردوں کو رہا کیا اور 35سے40ہزار دہشت گرد واپس آئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ٹی ٹی اے اور ٹی ٹی پی ایک ہی ہیں اور ماضی میں بھی مل کر کام کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ بہت مشکل مسئلہ ہے اس مسئلے پر داخلہ اور دفاع کے حکام ایوان کو بریفنگ دیں۔ اسحاق ڈار نے بتایا ہے کہ کسی بھی رکن کی نااہلی اس وقت تک نہیں ہوسکتی ہے جب تک آئین کے تحت طریقہ کار پر عمل درآمد نہ کیا جائے۔جمعرات کو سینیٹ اجلاس کے دوران نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہاکہ اگر ہم اپنی خواہشات پر چلنا چاہیں تو اس کی تو کوئی لسٹ نہیں ہے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی دور میں چند منٹ میں منتخب اسمبلی کو گھر بھیج دیا گیا انہوں نے کہاکہ یہ ایک بنیادی چیز ہے اس ایوان میں 27ویں آئینی ترمیم منظور ہوچکی ہے جس کی قومی اسمبلی میں نشاندھی ہوچکی ہے

ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 6میں بہت بڑی غلطی تھی انہوں نے کہاکہ جب پنجاب حکومت گرانے کا کام آتا ہے تو اس وقت ججز کے فیصلے نظر آتے ہیں انہوں نے کہاکہ اس کا مطلب ہے کہ جو دل کرے گا وہ ہوگا انہوں نے کہاکہ اگر آپ اتنے سمجھدار ہیں تو کمیٹی میں چلے جاتے آپ لوگوں کو کس نے روکا تھا۔ انہوں نے کہاکہ اگر 63اے کا بھی ایک طریقہ کار ہے اس حوالے سے چیئرمین سینیٹ کو لکھنا چاہیے اور اس کامزید بھی پراسس ہے انہوں نے کہاکہ اسی لئے یہ پراسس موجود ہے اگر کوئی کہتا ہے کہ میرے ضمیر کے مطابق یہ ٹھیک ہے تو وہ ووٹ دے دیتا ہے اور اس کے بعد پارٹی کا بھی حق ہے کہ وہ پراسس کرے انہوں نے کہاکہ اگر کسی معزز ممبر نے ابھی تک استعفیٰ نہیں دیا ہے تو ابھی تک اس ایوان کا ممبر ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.