حماس نے مزید 2اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں دیدیں، 15 فلسطینیوں کی میت وصول

حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔حماس کی جانب سے مزید 2اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کر دی گئیں جبکہ 15 فلسطینیوں کی میت وصول کی گئیں۔ ریڈ کراس کمیٹی نے غزہ میں زیر حراست 2اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں وصول کر لی۔حماس نے اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل کیساتھ جنگ بندی کے تحت دو اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں منگل کو واپس کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔القسام بریگیڈز کے مطابق ہم رات 9بجے دو اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں حوالے کریں گے۔اگر یہ عمل مکمل ہو گیا تو جنگ بندی کے آغاز سے اب تک حماس کی جانب سے اسرائیل کو مجموعی طور پر 15لاشیں واپس کی جا چکی ہوں گی۔

برطانوی فوجیوں کو غزہ امن منصوبے کی نگرانی کیلئے اسرائیل میں تعینات کردیا گیا۔ برطانوی فوج کے ایک سینئر کمانڈر اور محدود تعداد میں فوجیوں کو امریکا کی درخواست پر غزہ امن منصوبے کی نگرانی کیلیے اسرائیل بھیجا گیا۔جان ہیلی برطانوی وزیر دفاع نے لندن میں کاروباری رہنماؤں سے خطاب کے دوران اس تعیناتی کی تصدیق کی۔ ان کے مطابق برطانوی فورسز خصوصی مہارت اور تجربے کے ذریعے خطے میں طویل المدتی امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔جان ہیلی کے مطابق ایک برطانوی اعلی افسر کو امریکی کمانڈر کا ڈپٹی کمانڈر مقرر کیا گیا ہے جو ایک سول ملٹری کو آرڈی نیشن سینٹر چلائیں گے۔ اس مرکز میں مصر، قطر، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے فوجی بھی شامل ہونے کی توقع ہے۔

جے ڈی وینس امریکہ کے نائب صدر کا کہنا تھا کہ فی الحال حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے کوئی مخصوص ٹائم لائن مقرر نہیں کی جا سکتی، تاہم وہ غزہ میں جنگ بندی کے استحکام کے بارے میں پر امید ہیں۔وینس کے مطابق جنگ بندی پر عمل درآمد توقع سے بہتر طور پر آگے بڑھ رہا ہے اور اس سلسلے میں اسرائیلی حکومت نے نمایاں تعاون کیا ہے۔ انھوں نے اس مرکز کا بھی دورہ کیا جہاں امریکی اہل کار جنگ بندی کی نگرانی کے لیے تعینات ہیں۔ان کے مطابق ہم صحیح سمت میں جا رہے ہیں، صورت حال بہت اچھی ہے، لیکن اس کے لیے مستقل نگرانی اور کوشش ضروری ہے۔ اب تک جو پیش رفت ہوئی ہے، اس پر سب کو فخر ہونا چاہیے۔فی الحال مشرقِ وسطی میں امریکی سفارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں تاکہ غزہ میں جنگ بندی کو کامیاب بنایا جا سکے اور کسی ممکنہ خلاف ورزی سے اس کے خاتمے کو روکا جا سکے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.