حال نیوز۔۔۔۔فلسطین کے جنگ زدہ علاقے غزہ پٹی کے رہائشیوں نے ٹرمپ کی طرف سے پیش کیے گئے امن منصوبے کو ’تماشہ‘ قرار دیا۔ فلسطینی عوام کا کہنا تھا کہ یہ بالکل واضح ہے کہ یہ منصوبہ غیر حقیقی ہے۔رفح کے رہائشیوں کا کہنا تھا کہ یہ ایسی شرائط کے ساتھ تیار کیا گیا منصوبہ ہے، جنہیں امریکا اور اسرائیل جانتے ہیں کہ حماس کبھی قبول نہیں کرے گا، ہمارے لیے اس کا مطلب ہے کہ جنگ اور تکالیف جاری رہیں گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سامنے آنے والے منصوبے کے مطابق حماس اور دیگر مسلح دھڑے کسی بھی شکل میں، براہِ راست یا بالواسطہ، غزہ کی حکمرانی میں کوئی کردار ادا نہیں کریں گے۔فلسطینیوں کے مطابق اس منصوبے کا مقصد فلسطینی دھڑوں کو دھوکا دے کر غزہ میں موجود اسرائیلی قیدیوں کو رہا کروانا ہے، جب کہ بدلے میں امن نہیں ملے گا۔
دیر البلاح کے رہائیشیوں کا کہنا تھا کہ یہ سب دھوکا دہی ہے، اس کا کیا مطلب ہے کہ تمام قیدیوں کو بغیر کسی سرکاری ضمانت کے حوالے کر دیا جائے، انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا جنگ ختم ہو گی؟ان کا کہنا تھا کہ ہم بطور قوم اس تماشے کو قبول نہیں کریں گے، اب چاہے حماس اس معاہدے کے بارے میں کچھ بھی فیصلہ کرے، بہت دیر ہو چکی ہے۔انکے مطابق حماس نے ہمیں کھو دیا ہے اور ہمیں اس طوفان میں ڈبو دیا ہے جو اس نے خود بنایا تھا۔
فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ ہم پر جو کچھ بیت چکا ہے، میں اس سب کے باوجود اب بھی امید رکھتا ہوں، حالانکہ ہم جنگ میں سب کچھ کھو چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کوئی جنگ ہمیشہ نہیں رہتی، اس بار میں بہت پر امید ہوں، اور ان شا اللہ یہ خوشی کا لمحہ ہوگا جو ہمیں اپنے درد اور تکلیف بھلا دے گا۔ان کے مطابق اگر واقعی جنگ روکنے کی نیت ہوتی تو اتنی دیر نہ کی جاتی، اسی لیے میں ان کی کسی بات پر یقین نہیں کرتی۔