بلوچستان کے لوگ 80 کی دہائی میں رہنے پر مجبور، موبائل ڈیٹا پھر بند

حال نیوز۔۔۔۔۔۔بلوچستان کے لوگ 80 کی دہائی میں رہنے پر مجبور، حکومت کی جانب سے موبائل انٹرنیٹ ڈیٹا پھر بند کر دیا گیا، 61ویں بار شہری، طلبہ اور کاروباری طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہو گئے، شہر کے عوام کا مطالبہ: انٹرنیٹ بند کرنے کو آخری حربہ بنایا جائے اور متبادل نظام فوری فراہم کیا جائے،کوئٹہ میں ایک بار پھر موبائل انٹرنیٹ سروس اچانک معطل کر دی گئی، جس کے باعث شہری، طلبہ، کاروباری طبقہ اور مریضوں کے لواحقین شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

موبائل ڈیٹا سروس بند کرنے کا فیصلہ سیکیورٹی خدشات اور حالیہ واقعات کے پیشِ نظر کیا گیا، تاہم حکومت کی جانب سے ابھی تک باضابطہ بیان جاری نہیں ہوا۔ذرائع کے مطابق یہ گزشتہ چند برسوں میں 61ویں مرتبہ ہے کہ کوئٹہ میں موبائل انٹرنیٹ معطل کی گئی ہے۔ بار بار کی سروس معطلی نے شہریوں کو روزمرہ کام، آن لائن تعلیم، ڈیجیٹل مالیاتی نظام اور کاروباری امور میں شدید رکاوٹیں پیدا کر دی ہیں۔

کوئٹہ کے شہریوں نے بتایا کہ انٹرنیٹ بند ہونے کے باعث آن لائن کاروبار اور ادائیگیاں معطل ہو گئی ہیں،طلبہ کی آن لائن کلاسز اور اسائنمنٹس متاثر ہوئے ہیں،بینکنگ، ایزی پیسہ، جاز کیش اور دیگر ڈیجیٹل مالیاتی نظام رک گئے ہیں،مریضوں کے لواحقین کے اسپتال اور ایمبولینس رابطے متاثر ہوئے ہیں،ٹرانسپورٹ سروسز، ٹک ٹاکسی، آن لائن بکنگ اور ڈیلیوری سسٹم متاثر ہوئے ہیں۔ایک مقامی تاجر نے کہا،روز روز انٹرنیٹ بند ہونے سے کاروبار بیٹھ گیا ہے، نہ پیمنٹ ہوتی ہے اور نہ کسٹمر کا رابطہ۔ حکومت کو متبادل اقدامات کرنے چاہئیں۔

طلبہ نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بغیر انٹرنیٹ آن لائن کلاسز اور امتحانات کی تیاری ممکن نہیں۔سماجی تنظیموں نے اس اقدام کو شہری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ کے شہری ہمیشہ متاثر ہوتے ہیں اور ہر واقعے کے بعد سب سے پہلے انٹرنیٹ بند کر دیا جاتا ہے۔شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انٹرنیٹ بند کرنے کو آخری حل بنایا جائے اور شفاف پالیسی کے تحت متبادل نظام عوام کے لیے فوری فراہم کیا جائے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.