ایران میں مہنگائی کیخلاف احتجاج،35 افراد جان کی بازی ہار گئے

حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔ ایران میں مہنگائی کیخلاف احتجاج،25 افراد جان کی بازی ہار گئے، ایرانی مظاہروں میں ایک ہزار سے زائد گرفتار، حکومت کی سخت وارننگ،ریال کی قدر میں مزید کمی، ایران میں بے چینی بدستور برقرار ہے۔ ایران میں مہنگائی اور مقامی کرنسی کی قدر میں شدید کمی کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران ابتدائی نو دنوں میں کم از کم 25 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد گرفتار ہو چکے ہیں۔ یہ بات انسانی حقوق کی تنظیموں نے بتائی ہے۔یہ احتجاج گزشتہ ماہ تہران کے تاریخی بازار سے شروع ہوئے، جہاں تاجروں اور شہریوں نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ایرانی ریال کی مسلسل گراوٹ کے خلاف آواز بلند کی۔

یہ مظاہرے مغربی اور جنوبی ایران کے متعدد شہروں تک پھیل گئے، تاہم ان کی شدت 2022-23 کے اْن مظاہروں جتنی نہیں جن کا آغاز مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ہوا تھا۔اگرچہ موجودہ احتجاج نسبتاً محدود ہیں، لیکن انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ان کا دائرہ کار تیزی سے معاشی مطالبات سے آگے بڑھ کر حکومتی طرزِ حکمرانی اور مذہبی قیادت کے خلاف نعرے بازی تک پہنچ چکا ہے۔کرد نڑاد ایرانی حقوق کی تنظیم ہینگاو کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار افراد 18 سال سے کم عمر ہیں، جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کارکنوں کے نیٹ ورک نے ہلاکتوں کی تعداد 29 بتائی ہے، جن میں دو سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ گرفتار افراد کی تعداد 1,203 بتائی گئی ہے۔ خبر رساں ادارہ رائٹرز ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔ایرانی حکام نے مظاہرین کی ہلاکتوں کی کوئی باضابطہ تعداد جاری نہیں کی، تاہم تصدیق کی ہے کہ کم از کم دو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ایرانی پولیس کے سربراہ احمد رضا رادان نے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے“فسادی عناصر”کے خلاف سخت کارروائی کر رہے ہیں، جبکہ مظاہرین اور ہنگامہ آرائی کرنے والوں میں فرق رکھا جا رہا ہے۔ادھر ایران کو بین الاقوامی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی تو امریکا ان کی حمایت کرے گا۔ اس کے جواب میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران“دشمن کے سامنے ہرگز جھکنے والا نہیں۔”حکومت نے معاشی مشکلات کو تسلیم کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ غیر ملکی طاقتوں سے منسلک نیٹ ورکس معاشی احتجاج کو بدامنی میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عدلیہ کے سربراہ نے“فسادی عناصر”کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔صدر مسعود پزشکیان نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مانیٹری اور بینکاری نظام میں اصلاحات اور عوام کی قوتِ خرید کے تحفظ کا وعدہ کیا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.