حال نیوز۔۔۔۔۔۔فوج سیاست میں الجھنا نہیں چاہتی، دہشتگردوں سے بات نہیں ہوگی۔ پاکستان کی سیکیورٹی کے ضامن مسلح افواج ہیں یہ ضمانت کابل کو نہیں دینی۔ افغانستان میں ڈرون حملوں پر امریکا سے کوئی معاہدہ نہیں، طالبان نے کوئی باضابطہ شکایت نہیں کی۔فوج کے اندر کوئی عہدہ تخلیق ہونا ہے تو یہ حکومت کا اختیار ہے ہمارا نہیں‘ غزہ امن فوج کا فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ کرے گی۔ پشاور میں گورنر راج فیصلے کا اختیار حکومت کے پاس ہے‘ فوج کو سیاست سے دور ہی رکھا جائے۔ افواج پاکستان کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیکیورٹی کے ضامن مسلح افواج ہیں یہ ضمانت کابل کو نہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ طالبان کی آمد پر کبھی ہمارے ملک نے جشن نہیں منایا، ہماری طالبان گروپوں کے ساتھ لڑائی ہے، ٹی ٹی پی،بی ایل اے اور دیگر تنظیموں کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں‘غزہ میں فوج بھیجنے کا فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ کرے گی۔ پاکستان نے کبھی طالبان کی آمد پر جشن نہیں منایا، ہماری طالبان گروپوں کے ساتھ لڑائی ہے، ٹی ٹی پی،بی ایل اے اور دیگر تنظیموں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، پاکستان کی سیکیورٹی کے ضامن مسلح افواج ہیں یہ ضمانت کابل کو نہیں دینی۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا امریکا سے کوئی معاہدہ نہیں، ڈرون کے حوالے سے طالبان رجیم کی جانب سے کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی۔
استنبول میں طالبان کو واضح بتایا ہے کہ دہشت گردی آپ کو کنٹرول کرنی ہے اور یہ کیسے کرنی ہے یہ آپ کا کام ہے، یہ ہمارے لوگ تھے جب یہاں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کیا یہ بھاگ کر افغانستان چلے گئے، ان کو ہمارے حوالے کردیں ہم ان کو آئین اور قانون کے مطابق ڈیل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ دہشت گردی، جرائم پیشہ افراد اور ٹی ٹی پی کا گٹھ جوڑ ہے، یہ لوگ افیون کاشت کرتے ہیں اور 18 سے 25 لاکھ روپے فی ایکڑ پیداوار حاصل کرتے ہیں، پوری آباد ی ان لوگوں کیساتھ مل جاتی ہے، وار لارڈز ان کیساتھ مل جاتے ہیں، یہ حصہ افغان طالبان، ٹی ٹی پی اور وار لارڈز کو جاتا ہے، یہ لوگ اس طرح ملکرکام کرتے ہیں اور پیسے بناتے ہیں۔
ترجمان افواج پاکستان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ فوج کے اندر کوئی عہدہ تخلیق ہونا ہے تو یہ حکومت کا اختیار ہے ہمارا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ امن فوج کا فیصلہ حکومت اور پارلیمنٹ کرے گی۔ پاکستان پالیسی بنانے میں خودمختار اور اپنی سرحدوں اور عوام کی حفاظت کے لیے تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پشاور میں گورنر راج سے متعلق فیصلے کا دائرہ اختیار حکومت کے پاس ہے۔ فوج سیاست میں الجھنا نہیں چاہتی، فوج کا اس سے دور ہی رکھا جائے۔ ان کے مطابق افغانستان کی شرائط معنی نہیں رکھتی، دہشتگردی کا خاتمہ اہم ہے۔ دہشت گردوں سے کبھی بات نہیں ہوگی۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کو پاکستان کا رسپانس فوری اور موثر تھا۔ پاکستان کے رسپانس کے وہی نتائج نکلے جو ہم چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا افغانستان میں منشیات اسمگلرز کی افغان سیاست میں مداخلت ہے اور وہاں سے بڑے پیمانے پر منشیات پاکستان اسمگل کی جا رہی ہے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ تیراہ اور کے پی میں خفیہ اطلاعات پر آپریشنز کامیابی سے جاری ہیں۔ فتنہ الخوارج کیخلاف آپریشن میں 1667 دہشتگرد مارے گئے۔ تاہم سیاسی جرائم پیشہ اور دہشتگرد گروپس ملک میں جرائم اور اسمگلنگ روکنے میں رکاوٹ ہیں۔