حال نیوز۔۔۔۔۔۔اراکین بلوچستان اسمبلی کے فرانس میں سیر سپاٹے، عوام کا پیسہ اڑانے لگے۔ تصاویر وائرل ہونے پر عوامی غصے میں اضافہ ہو گیا۔ عوامی وسائل کا ضیاع قرار، مالی بحران میں غیر ملکی دورہ عوام سے ناانصافی ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے ایک اعلی سطحی وفد کے فرانس کے دورے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ عوامی سطح پر یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ جب صوبہ مالی بحران، بدحالی، اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے تو عوامی نمائندے غیر ملکی دوروں پر کیوں جا رہے ہیں۔
اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی، اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری، صوبائی وزرا صادق عمرانی اور سلیم کھوسہ سمیت اسمبلی عملہ فرانس کے مختلف شہروں میں مصروفیات اور تفریحی سرگرمیوں میں دکھائی دے رہے ہیں۔سوشل میڈیا صارفین نے اس دورے کو عوامی وسائل کا ضیاع قرار دیتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن دونوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ صارفین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں اسپتالوں میں ادویات ناپید، تعلیمی ادارے خستہ حالی کا شکار اور عوام غربت و بے روزگاری سے دوچار ہیں، ایسے میں غیر ضروری غیر ملکی دورے ناانصافی ہیں۔
اگرچہ حکومتی موقف یہ ہے کہ یہ دورہ پارلیمانی تبادلے کے پروگرام کے تحت کیا گیا ہے، مگر موجودہ حالات میں یہ فیصلہ غیر دانشمندانہ معلوم ہوتا ہے۔ جب ترقیاتی منصوبے فنڈز کی کمی سے رکے ہوئے ہیں، ایسے دوروں سے عوام میں یہ تاثر گہرا ہوتا ہے کہ حکمران عوامی مسائل سے بے خبر ہیں۔عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس دورے کی مکمل تفصیلات، اخراجات اور نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ شفافیت برقرار رہے، اور مستقبل میں عوامی فنڈز کے غیر ضروری استعمال سے گریز کیا جائے۔ نمائندوں کو غیر ملکی دوروں کے بجائے صوبے کے اصل مسائل تعلیم، صحت، غربت اور امن و امانپر توجہ دینی چاہیے۔