حال نیوز۔۔۔۔۔۔ کراچی، پی ٹی آئی جلسہ، مزار قائد و گردو نواح سیل، تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا، کراچی میں پی ٹی آئی کا جلسہ، مزار قائد کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی، سڑکوں کی بندش کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کو باغ جناح گرانڈ پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پی ٹی آئی کے جلسہ سے قبل مزار قائد کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔ اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاقہ پیپلز چورنگی سے مزارِ قائد آنے والی سڑک کا ایک ٹریک اور خداداد کالونی سے آنے والی سڑک کے دونوں ٹریک بند کردیئے گئے ہیں، پولیس نے گرومندر سے نمائش سگنل تک جانے والی سڑک بھی بند کردی۔
ٹریفک کو گرو مندر سے سولجر بازار بھیجا جا رہا ہے، تاہم سڑکوں کی بندش کی وجہ سے پی ٹی آئی کارکنان کو باغ جناح گرانڈ پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔اس صورتحال میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اپیل کی ہے اچھے ماحول کو چلنے دیں، سندھ حکومت بدمزگی پیدا نہ کرے، اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آج وزیراعلی خیبرپختونخواہ کے دورہ سندھ کا آخری دن ہے پیر کو ان کی واپسی ہے، جلسہ مقررہ وقت و مقام پر اور قانون کے مطابق جمہوری انداز میں ہوگا، یہ کسی کے خلاف نہیں بلکہ اپنے حقوق کے لیے ہوگا۔
کراچی والو عمران خان کے نمائندے اور وزیراعلی کو مایوس نہ کرنا جلسہ میں شرکت کریں جب کہ سندھ حکومت آخری دن بدمزگی پیدا نہ کرے اور اچھے ماحول کو چلنے دیں، ہم نے بہت برداشت کیا آپ بھی ایک دن صبر کرلیں۔ادھر وزیراعلی خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی نے کہا کہ حیدر آباد سے کراچی واپسی پر ہمارے راستے میں جگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں جس کی وجہ سے ہمیں حیدر آباد سے کراچی پہنچنے میں ساڑھے 7گھنٹے لگ گئے کیوں کہ حیدرآباد سے کراچی واپسی پر ہمارا راستہ روکا گیا، حیدرآباد سے واپسی پر میرے اور میری ٹیم کے تمام راستے بند کردیئے گئے، جس کی وجہ سے ہمیں جان بوجھ کر ویران راستوں پر دھکیلا گیا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی کا کہنا تھا کہ ہم سنسان سڑک پر آکر کراچی کی طرف روانہ ہوئے اور مجبورا ہمیں ویران راستوں سے ہوکر کراچی پہنچنا پڑا، میں کراچی پہنچ گیا ہوں انہیں جلسے کا خوف ہے لیکن جلسہ تو ہوگا تاہم جو روایات ایک صوبے کے وزیراعلی کے ساتھ دوسرے صوبوں میں بنائی جا رہی ہیں یہ مستقبل قریب میں نقصاندہ ثابت ہوں گی، پاکستان ہم سب کا ہے اس میں نفرتوں کو اتنا مت پھیلائیں جس سے پھر واپسی ممکن نہ ہو، جعلی جمہوری قوتیں اس میں کوئی کثر بھی نہیں چھوڑ رہی ہیں، یہ انتہائی شرمناک ہے۔