راولپنڈی کے علاقہ راجہ بازار میں مدرسہ تعلیم القرآن میں دستار بندی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دینی مدارس قرآن و حدیث کے علوم اور ایمان کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں لیکن علامہ شبیر عثمانی کو بھی انگریز نے ان پڑھ کہا تھا، آج بھی اسی سوچ کے نقشِ قدم پر چلا جا رہا ہے اور دین کے علم کو علم تسلیم نہیں کیا جاتا۔مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ امریکہ کے ہاتھ میں اس وقت دنیا کی حکمرانی تو ہے لیکن ایمان کی طاقت نہیں، اسی لیے دینی مدارس ایمان کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔
مدارس کے تحفظ پر تمام مکاتبِ فکر کے علما متفق ہیں، اداروں پر اعتماد نہیں، مدارس کو کسی صورت سرکاری اداروں کے حوالے نہیں کرینگے، ہم مکالمے پر یقین رکھتے ہیں اور مشاورت سے بننے والے قانون کی پاسداری کریں گے مگر کسی قسم کا دھوکہ برداشت نہیں کیا جائے گا، ان کا کہنا ہے کہ حکمران ان اداروں اور گروہوں کی حالت پر بھی نظر ڈالیں جو اقتدار کے قریب ہو کر اپنی شناخت اور وقار کھو بیٹھے، جمعیت علما اسلام نے ہمیشہ تصادم کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا ہے اور ملکی سیاست میں بات چیت کو ہی مسائل کا حل سمجھا ہے کیوں کہ ہماری جماعت اور دینی طبقہ کسی تصادم کا خواہاں نہیں تاہم اپنے اصولوں، نظریات اور عوامی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔
سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ آئین سازی جیسے اہم اور حساس مراحل بھی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے ہی مکمل کیے گئے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری جماعت جمہوری اقدار اور سیاسی شعور پر یقین رکھتی ہے، جے یو آئی آئین، جمہوریت اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، ہم کسی کو دھمکی نہیں دے رہے بلکہ حقیقت بیان کر رہے ہیں، اگر دینی طبقے، عوام اور ان کی جماعت کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں، بہتر یہی ہے کہ حکمران ہوش مندی، تدبر اور انصاف کے ساتھ فیصلے کریں تاکہ ملک میں استحکام اور ہم آہنگی برقرار رہے۔