دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کی حساسیت کا حوالہ دیتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کے ریاستی اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنے داخلی مسائل کے حل پر توجہ دیں اور ایسے بیانات دینے سے گریز کریں جو سفارتی دائرہ کار سے باہر ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان ایک خودمختار اور مستحکم ملک ہے، جو ایک مضبوط سکیورٹی ڈھانچے اور مقتدر قیادت کا حامل ہے اور اپنی پوری سرزمین پر مکمل حاکمیت رکھتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے داخلی معاملات پر تبصرے اور دھمکی آمیز زبان کا استعمال افغان عوام کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔
گزشتہ روز ہی ایک پریس کانفرنس میں احمد شریف چوہدری نے کہا کہ 2025میں پاکستان کی اولین ترجیح سکیورٹی، بالخصوص انسدادِ دہشت گردی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں موجودہ انتظامی ڈھانچہ ایک باقاعدہ حکومت کے زمرے میں نہیں آتا اور انہوں نے طالبان کی حکومت کو ایک عبوری انتظامیہ کے طور پر پیش کیا۔ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر اردو زبان میں لکھا ہے کہ پاکستان کے متعلقہ اداروں سے اپیل کی جاتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمے دارانہ طرز عمل اور سنجیدہ بیانات کی روش اختیار کریں۔
واضح رہے کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان ہونے والے دوحہ معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی فوج کے ترجمان احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ اس معاہدے کے تحت افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کیے جانے کی شرط شامل ہے۔تاہم، ان کا دعوی تھا کہ اس وقت افغانستان میں دہشت گرد گروہ اور کالعدم تنظیمیں موجود ہیں اور خطے میں یہ ملک دہشت گرد سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔انہوں نے عسکریت پسند گروپوں پر افغان سرزمین استعمال کرنے اور بھارت پر ان کی پشت پناہی کا الزام لگایا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے وار اکانومی(جنگی معیشت)کو دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ قرار دیا اور افغانستان میں چھوڑے گئے تقریبا سوا سات ارب ڈالر کے جدید امریکی اسلحے کے استعمال پر بھی سوال اٹھائے۔چوہدری نے کہا کہ دوحہ معاہدے کے باوجود وعدے پورے نہیں ہوئے، نہ تو کوئی نمائندہ حکومت بنی اور نہ ہی افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور شام سے آئے 2500غیر ملکی دہشت گرد افغانستان سے کام کر رہے ہیں۔ افغان طالبان اس نوعیت کے الزامات کو بار بار مسترد کرتے رہے ہیں اور ان کا مقف ہے کہ وہ افغان سرزمین کو کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف خطرات یا حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔