نسرینہ بلوچ کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے، وائس فار میسنگ پرسنز

حال۔۔۔۔۔۔۔ نسرینہ بلوچ کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے، حب کے علاقے سے ڈیڑھ ماہ قبل سیکورٹی فورسز کی جانب سے 17 سالہ نسرینہ بلوچ کو جبری طور پر اٹھایا گیا تا حال اس کی رہائی اور ایف آئی آر کا اندراج ممکن نہیں بنایا گیا۔حب کے علاقے سے ڈیڑھ ماہ قبل سیکورٹی فورسز کی جانب سے 17 سالہ نسرینہ بلوچ کو جبری طور پر اٹھایا گیا تا حال اس کی رہائی اور ایف آئی آر کا اندراج ممکن نہیں بنایا گیا جس کی وجہ سے اس کے اہلخانہ شدید تشویش میں مبتلا ہے۔

یہ بات ا س کی اہلخانہ نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ کے ہمراہ کوئٹہ میں احتجاجی کیمپ میں سوموار کو پریس کانفرنس کے دوران کہی انہوں نے کہا کہ 22 نومبر 2025ء کی شب سیکورٹی اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے علاوہ سادہ کپڑوں میں ملبوس عملہ ہمارے گھر داخل ہوئے اور میری 17 سالہ بھتیجی نسرینہ بلوچ کو اپنے ہمراہ لے گئے تا حال اس کی رہائی اور ایف آئی آر کے اندراج کے لئے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

متعدد بار سی ٹی ڈی اور دیگر اداروں کے دفاتر کے چکر لگانے پر ہمیں تسلی دی گئی کہ تفتیش کے بعد نسرینہ کو رہا کردیا گیا جبکہ ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود اس کی رہائی ممکن نہیں بنائی جارہی پہلے نوجوانوں کو جبری گم کیا جارہا تھا اب نوجوان بیٹیوں کو اغواء کیا جارہا ہے اور کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہمیں سخت دھمکیاں دی گئیں کہ اگر اس واقعے کے بارے میں کسی کو بتایا تو اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

ہم نے اس اندوہناک واقعے کے بعد انصاف کی تلاش میں ہر دروازہ کھٹکھٹایالیکن کوئی داد رسی نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ ہم شدید ذہنی اذیت اور کرب میں مبتلا ہیں کہ ہماری بھتیجی کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جارہا ہے اور ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہے یا نہیں۔ آج کسی کی بیٹی کو اٹھایا جا رہا ہے، کل کسی اور کی باری ہو سکتی ہے۔اگر ریاستی اداروں کو نسرینہ بلوچ پر کوئی شک ہے کہ اس نے کوئی قانون توڑا ہے، تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے، جیل میں ڈالا جائے، قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ اس طرح کسی بیٹی کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنانا نہ آئینی طور پرجائز نہیں ہے انہوں نے کہا کہ ہم اس ہفتے ہم ماما قدیر کے کیمپ میں بیٹھ کر اپنا احتجاج جاری رکھیں گی، اور جلد ہی اسی کیمپ سے ایک باقاعدہ احتجاجی پروگرام کا اعلان بھی کیا جائے گا۔ہماری بلوچستان کے عوام سے التجا ہے کہ وہ نسرینہ بلوچ سمیت تمام جبری گمشدہ افراد کی بازیابی کیلئے توانا آواز بننے کیلئے ہمارا ساتھ دیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.