حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کیخلاف تحریک استحقا ق جمع کرانے کا اعلان کر دیا، ذاتی معاملہ نہیں بلکہ پارلیمنٹ اور ایوان کے تقدس کا معاملہ ہے، جس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، کیا منتخب نمائندوں کو سوال کرنے کا حق بھی حاصل نہیں؟ اگر یہ رویہ جاری رہا تو پورا ایوان یرغمال بن جائیگا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر پلوشہ خان نے ایم این اے سحر کامران اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر علیم خان کیخلاف سینیٹ میں تحریکِ استحقاق جمع کرانیکا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انکا ذاتی معاملہ نہیں بلکہ پارلیمنٹ اور ایوان کے تقدس کا معاملہ ہے، جس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
سینیٹر پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ کیا منتخب نمائندوں کو سوال کرنے کا حق بھی حاصل نہیں؟ اگر یہ رویہ جاری رہا تو پورا ایوان یرغمال بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ مفادات کے عادی ہو چکے ہیں وہ ہر سوال کے پیچھے سازش تلاش کرتے ہیں، جبکہ سوال کرنا آئینی اور جمہوری حق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی سال قبل انہوں نے ایوان میں ایک سوال اٹھایا تھا جس کا آج تک جواب نہیں دیا گیا۔ یہ سوال ایک سڑک کی تعمیر سے متعلق تھا جو عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے بن رہی تھی۔ ان کا سوال تھا کہ آیا یہ سڑک عوام کیلئے ہے یا کسی مخصوص ہاؤسنگ سوسائٹی کے مفاد میں بنائی جا رہی ہے۔ اگر اس سوال پر کسی کو غصہ آتا ہے تو مسئلہ سوال میں نہیں بلکہ جواب نہ دینے میں ہے۔
پلوشہ خان نے کہا کہ پارلیمنٹ میں آواز دبانے کے بجائے اپنی دلیل کو مضبوط کیا جائے۔ سیاست کوئی تماشا نہیں، مگر بدقسمتی سے ملک میں سیاست کو تماشا بنایا جا رہا ہے۔ بدزبانی اس بات کی علامت ہے کہ بولنے والے کے پاس کوئی دلیل موجود نہیں۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ دھونس سے سوال دبائے جا سکتے ہیں تو یہ ممکن نہیں ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ تمام وزراء اس ایوان کو جواب دہ ہیں اور وزیراعظم اپنے وزراء کو لگام دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھارت نہیں اور نہ ہی یہاں آر ایس ایس کی حکومت ہے بلکہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ عورت ہونے کی آڑ میں نہ چھپی ہیں اور نہ چھپیں گی، کیونکہ وہ ایک منتخب نمائندہ ہیں۔
سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ شیشے کے گھروں میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر نہیں مارنے چاہئیں۔ اگر ان کی ذات سے جڑا کوئی معاملہ زبان پر آیا تو بہت سے چہرے بے نقاب ہو جائیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اب یہ معاملہ سینیٹ میں زیر بحث آئے گا اور اس کا فیصلہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری کریں گے۔ اس موقع پر سحر کامران نے کہا کہ صرف سینیٹ ہی نہیں بلکہ قومی اسمبلی بھی سینیٹر پلوشہ خان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ایوان کی خواتین اس معاملے پر متحد ہیں کیونکہ یہ صرف ایک رکن یا کمیٹی کا نہیں بلکہ پوری پارلیمنٹ کی توہین اور استحقاق کی پامالی کا معاملہ ہے۔سحر کامران نے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق، حقوقِ نسواں اور دیگر متعلقہ ادارے اس معاملے کا نوٹس لیں۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹر پلوشہ خان نے کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا، جس پر وہ دادِ تحسین کی مستحق ہیں۔