اڈیالہ کے باہر دھرنے میں شامل کارکنوں کیخلاف مقدمہ درج

حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔ اڈیالہ کے باہر دھرنے میں شامل کارکنوں کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا،  علیمہ خانم کی قیادت میں دھرنے پر 400 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے‘14 ملزمان کو موقع سے گرفتارکرلیاگیا، سب انسپکٹر محمد عمران کی مدعیت میں درج مقدمہ میں سابق چیئرمین کی تینوں بہنوں سمیت 35 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ تھانہ صدر بیرونی پولیس نے تحریک انصاف کے سابق چیئرمین سے ملاقات کے لئے اڈیالہ جیل کے باہر گزشتہ رات علیمہ خانم کی قیادت میں دھرنے پر 400 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے جن میں سے 14 ملزمان کو موقع سے گرفتار کرلیا گیا تھا سب انسپکٹر محمد عمران کی مدعیت میں درج مقدمہ میں سابق چیئرمین کی تینوں بہنوں سمیت 35 افراد کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ دیگر نامعلوم ملزمان میں شامل ہیں۔

انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 اور (1)21 کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی دیگر کئی دفعات کے تحت درج مقدمہ نمبر 1538 کے مطابق مدعی مقدمہ دیگر ساتھی ملازمین کے ہمراہ شائیگان فیکٹری کے سامنے موجود تھے کہ علیمہ خانم، ڈاکٹر عظمیٰ، نورین نیازی، قاسم خان، سلمان اکرم راجہ، عالیہ حمزہ، نعیم پنجوتھہ، تابش فاروق، طیبہ راجہ، نادیہ خٹک، ہارون راجہ، اسد عباس، ظفر گوندل، شفقت عباس، عثمان جوڑا، فیصل گوجرانی، طارق ساہی، آفتاب عالم، قاضی افضال، ضیا الدین، سیمابیہ طاہر، آنٹی رابعہ، عاطف ریاض، تنویر اسلم، تیمور مسعود، شوکت بسرا، چوہدری امیر افضل بسمہ ریاض اور آئی ایس ایف کے مقامی رہنماؤں کے ہمراہ 400 کے قریب افراد جو پورے دن سے فیکٹری کے سامنے دھرنے پر بیٹھے احتجاج کر رہے تھے۔

رات تقریباً اڑھائی بجے تک حکومت اور دیگر اداروں کے خلاف بے بنیاد نعرہ بازی سے اشتعال دلواتے رہے اور سڑک کو مسلسل بند کر کے عوام کے لئے بھی پریشانی کا باعث بنتے رہے جنہیں افسران کے ساتھ مل کر تمام دن انتہائی اخلاق اور خندہ پیشانی سے سمجھاتے رہے کہ ان کی یہ سرگرمی نہ صرف عوام کے لئے اذیت کا باعث ہے بلکہ عوام کے جان و مال کے لئے شدید خطرہ بھی ہے جبکہ اڈیالہ جیل کے ارد گرد سمیت ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ ہے اور آپ لوگ دیدہ دانستہ منظم طور پر اس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں لیکن مجمع میں موجود بہت سے افراد نے پولیس افسران کو گالم گلوچ شروع کردی اور دست و گریباں ہونے کی کوشش میں مزاحمت پر اتر آئے۔

اس دوران کچھ اہلکاروں کی یونیفارم بھی پھٹ گئی جبکہ بعض ڈنڈا بردار اڈیالہ چوکی کی پولیس موبائل نمبر آر ایل بی 7525 پر حملہ آور ہوگئے جنہیں افسران کی مشاورت سے مسلسل سمجھانے کی کوشش کرتے رہے اسی اثنا میں آئی ایس ایف کے بعض نوجوانوں نے بوتلوں میں بنائے گئے پٹرول بم مارنے کی نیت سے پولیس پر پھینکے جن سے سڑک پر آگ لگ گئی اور ہر طرف خوف و ہراس پھیل گیا اس دوران پولیس نے حکمت عملی کے ساتھ گھیرا ڈال کر حسنات احمد، شاہد علی، محمد اکبر، ملک اسد، ولی محمد، راجہ قمر، راجہ ثاقب، فرید احمد، عمر ظہیر، قادر خان، عمادالحسن، محمد شہباز، آصف اللّہ اور رضوان مظفر شاہ پر مشتمل 14 ملزمان کو موقع سے گرفتار کرلیا جبکہ دیگر افراد موقع سے فرار ہوگئے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.