حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔ 6 ماہ قبل اغواء ہونے والے 2 بھائیوں بازیاب 3 ملزمان گرفتار، اغواء 98 کروڑ روپے کے لین دین پر کیا گیا تھا،ڈی آئی جی کرائم برانچ بلوچستان ڈاکٹر فرحان زاہد نے کہا ہے کہ 98 کروڑ روپے کے لین دین پر 6 ماہ قبل اغواء ہونے والے 2 بھائیوں کو بحفاظت بازیاب کراکر 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ جبکہ مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں بسنے والے لوگوں کی سہولت کے لئے کرائم برانچ کے ریجنل دفاتر قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں ژوب، لورالائی رینج دفتر کا افتتاح کردیا ہے جہاں پر ڈی ایس پی رینک کا آفیسر اور دیگر عملہ تعینات کیا جائے گا اس کے بعد سبی نصیر آباد اور پھر قلات ریجن میں دفاتر قائم کئے جائیں گے۔
ڈی آئی جی کرائم برانچ بلوچستان ڈاکٹر فرحان زاہد نے ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو اپنے دفتر میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ایس ایس پی انوسٹی گیشن کرائم برانچ عطااللہ شاہ سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ڈی آئی جی ڈاکٹر فرحان زاہد نے بتایا کہ 6جون کوکوئٹہ کے علاقے کلی پائند خان شابو روڈ کے رہائشی حاجی قبات خان ولد دارا شاہ نے سرانان لیویز تھانے میں رپورٹ درج کرائی تھی کہ میرے دو بیٹے عدنان خان اور عرفان خان کام کے سلسلے میں سرانان گئے تھے جنہیں نامعلوم مسلح افراد نے گاڑی سمیت اغوا کر لیا اسی ماہ یہ کیس کرائم برانچ منتقل کیا گیا یہ کیس انتہائی اہمیت کا حامل تھا ایس ایس پی انوسٹی گیشن کرائم برانچ عطااللہ شاہ کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی گئی جس میں ڈی ایس پی مختیارموسی خیل،ڈی ایس پی معراج خالد کاکڑ،تفتیشی انسپکٹر محمد ابراہیم،انسپکٹر شین گل شامل تھے۔
پولیس ٹیم نے دونوں سگے بھائیوں مغویوں کی بازیابی کیلئے دن رات محنت کی معلومات پر ٹیم نے کئی علاقوں میں چھاپے مارے مگراغوا کار مغویوں کو مختلف مقامات پر منتقل کرتے رہے انہوں نے بتایا کہ ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک اغوا کار کلیم اللہ کو گرفتار کیا جس نے دوران تفتیش اپنے ساتھیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ مغویوں کو قلعہ عبداللہ گلستان میں ایک مکان میں رکھا ہوا ہے جس پر ٹیم نے15دسمبر کو قلعہ عبداللہ گلستان میں کارروائی کرتے ہوئے مکان سے مغوی دونوں بھائیوں کو بحفاظت بازیاب کراکر3 اغواء کاروں کو گرفتار کرلیا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں بھائیوں کو ان کے چچا نے 98کروڑ روپے کے لین دین کے تنازع پر اغوا کیا تھا جبکہ مرکزی ملزم اور دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے پولیس چھاپے ماررہی ہے۔
ڈی آئی جی کرائم برانچ بلوچستان ڈاکٹر فرحان زاہد نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صوبے کے دور افتادہ علاقوں کے عوا م کی مشکلات کا آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان نے نوٹس لیتے ہوئے کرائم برانچ کے ریجن دفاتر بنانے کی ہدایت کی تھی جس پر تیزی سے کا م کیا گیا اور پہلے مرحلے میں ژوب و لورلائی ریجن کے دفتر کا لورالائی میں افتتاح کر دیا گیا ہے ریجن کا انچارج ڈی ایس پی ہو گا جبکہ انسپکٹر،سب انسپکٹر، اے ایس آئی سمیت 16اہلکار دفتر میں تعینات کئے گئے ہیں دوسرے مرحلے میں سبی، نصیر آباد اور تیسرے مرحلے میں قلات و گوادر ریجن بنائے جائیں گے۔ ریجن آفس بننے سے غریب عوام کو سہولت ہوگی اور انہیں اپنی دہلیز پر اپنے کیسز کے حصول اور مسائل کے حل میں مدد ملے گی
ڈی آئی جی کرائم برانچ بلوچستان ڈاکٹر فرحان زاہد نے کہا کہ صوبے بھر کے مختلف نوعیت کے کیسز ہیں دور دراز علاقوں کے عوا م کو اپنے کیسز کے سلسلے میں میلوں کا طویل سفر طے کر کے کوئٹہ آنا پڑتا ہے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کرائم برانچ کے پاس اس وقت تقریبا250کیسز ہیں جن میں اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، ڈکیتی جبکہ زیادہ تر قتل کے کیسز ہیں جو بلوچستان بھر کے دور دراز علاقوں کے ہیں ریجن دفاتر کے قیام سے کیسز کو جلدحل کرنے میں بھی مدد ملے گی انہوں نے بتایا کہ کرائم برانچ اپنے محدود وسائل کے باوجود بہتر کار کردگی کا مظاہرہ کر ر ہا ہے جس کے باعث عوام کا کرائم برانچ پر اعتماد بھی بڑھا ہے کرائم برانچ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لارہے ہیں جن کا مقصد عملے کو جدت سے آراستہ کرتے ہوئے عوام کو ان کی دہلیز پر ان کے مسائل کے حل کو ممکن بنانا ہے۔