اداروں میں کرپشن و اقربا پروری، وزیراعظم کا اظہار برہمی

حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔ وزیراعظم شہباز شریف وفاقی وزارتوں اور اہم سرکاری اداروں میں مبینہ کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق شکایات پر برہم ہو گئے۔ انسپیکشن کمیشن نے مجموعی طور پر 16 ہائی پروفائل انکوائریز مکمل کیں‘پولی کلینک میں جعلی ادویات کی خریداری کا سنگین معاملہ سامنے آیا، وزیراعظم کے احکامات پر معائنہ کمیشن کی مختلف اداروں میں کرپشن کی تحقیقات مکمل، ہو شربا انکشافات سامنے آئے، ٹریک اینڈ ٹریس نظام کی ناکامی پر کی گئی انکوائری میں ایف بی آر کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے۔ وزیراعظم معائنہ کمیشن نے وفاقی وزارتوں اور اہم سرکاری اداروں میں مبینہ کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق موصول ہونے والی شکایات سے متعلق تحقیقات مکمل کر کے ر پورٹ تیار کر لی۔ جس میں صحت، تعلیم، کسٹمز، ایف بی آر، بندرگاہوں، جیلوں کی تعمیر اور دیگر اہم شعبوں کے متعلق ہوشربا انکشافات سامنے آ ئے ہیں۔

وزیراعظم نے وفاقی وزارتوں اور اہم سرکاری اداروں میں مبینہ کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق موصول ہونے والی شکایات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم انسپیکشن کمیشن کو جامع تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ ان ہدایات کی روشنی میں کمیشن نے مختلف وفاقی اداروں اور وزارتوں میں انکوائریز مکمل کر کے اپنی رپورٹس تیار کر لی ہیں، جن میں قومی نوعیت کے اہم معاملات پر تشویشناک انکشافات سامنے آئے ہیں۔دستاویزات کے مطابق گزشتہ دو برس کے دوران وزیراعظم انسپیکشن کمیشن نے مجموعی طور پر 16 ہائی پروفائل انکوائریز مکمل کیں۔ کمیشن کی جانب سے مکمل کی جانے والی ان تحقیقات کی تفصیلات کے مطابق صحت، تعلیم، کسٹمز، ایف بی آر، بندرگاہوں، جیلوں کی تعمیر اور دیگر اہم شعبے شامل ہیں۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ وفاقی پولی کلینک ہسپتال اسلام آباد میں جعلی ادویات کی خریداری کا سنگین معاملہ سامنے آیا، جہاں کمیشن نے انتظامی کمزوریوں کی نشاندہی کی۔ رپورٹ کے مطابق انتظامی امور ڈاکٹروں کے سپرد ہونے کے باعث نگرانی کا مؤثر نظام موجود نہ تھا، جس کے نتیجے میں جعلی ادویات کی خریداری جیسے واقعات پیش آئے۔وزیراعظم انسپیکشن کمیشن نے 2022 کے سیلاب کے دوران پاسکو کے زیر انتظام گندم کے ذخائر کو پہنچنے والے نقصانات کا بھی تخمینہ لگایا۔ اس کے علاوہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام کی ناکامی پر کی گئی انکوائری میں ایف بی آر کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ٹریک اینڈ ٹریس نظام کے نفاذ کے لیے ایف بی آر نے وزیراعظم سے باضابطہ منظوری حاصل نہیں کی تھی، جس کے باعث نظام مؤثر طور پر نافذ نہ ہو سکا۔

وفاقی دارالحکومت میں ماڈل جیل کی تعمیر میں تاخیر کے معاملے کی انکوائری میں انکشاف ہوا کہ اسلام آباد کی مقامی انتظامیہ اور وفاقی ترقیاتی ادارے کے درمیان مالی تنازعات منصوبے میں تاخیر کا سبب بنے۔ اسی طرح کراچی بندرگاہ میں صفائی کے منصوبے میں بے قاعدگیوں سے متعلق انکوائری بھی مکمل کر لی گئی ہے۔کمیشن نے ملک بھر میں اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے حوالے سے بھی تحقیقات کیں، جن میں کسٹمز اہلکاروں اور سمگلرز کے درمیان گٹھ جوڑ کے شواہد سامنے آئے۔

رپورٹ کے مطابق کسٹمز فراڈ کے باعث قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔دستاویزات میں ای او بی آئی کے قائم مقام سربراہ کے مبینہ مس کنڈکٹ کے باعث ادارے میں پیدا ہونے والے انتظامی بحران کی انکوائری کا بھی ذکر ہے۔ اسی طرح وفاقی محکمہ تعلیم میں ڈائریکٹر جنرل کی عدم تقرری اور وزیراعظم تعلیمی اصلاحات پروگرام پر عملدرآمد میں ناکامی سے متعلق تحقیقات بھی انکوائریز کی فہرست میں شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم انسپیکشن کمیشن کی رپورٹس کی روشنی میں ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور اصلاحی اقدامات سے متعلق فیصلے متوقع ہیں، جبکہ وزیراعظم نے شفافیت اور احتساب کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت بھی کی ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.