اسرائیل بھارت دفاعی تعاون امن کیلئے سنگین خطرہ ہے،پاکستان

حال نیوز۔۔۔۔۔۔ اسرائیل بھارت دفاعی تعاون امن کیلئے سنگین خطرہ ہے، پاکستان افغان عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ کی درخواست پر امداد بھجوا رہا ہے، وصولی طالبان پر منحصر ہے، بھارتی وزیر دفاع کا متنازع بیان انتہائی قابل مذمت، بھارت کی ریاستی پشت پناہی میں پاکستان کیخلاف دہشت گردی جاری ہے، خطرناک ہتھیاروں تک دہشت گردوں کی ممکنہ رسائی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان افغان عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ کی درخواست پر امداد بھجوا رہا ہے، اب امداد کی وصولی طالبان حکام پر منحصر ہے۔ بھارتی وزیر دفاع کا حالیہ متنازع بیان انتہائی قابل مذمت ہے، بھارت کی ریاستی پشت پناہی میں پاکستان کے خلاف دہشت گردی جاری ہے۔ اسرائیل اور بھارت کے دفاعی تعاون پر پاکستان پہلے بھی اپنے خدشات کا اظہار کرتا رہا ہے، بھارت کے ذریعے خطرناک ہتھیاروں تک دہشت گردوں کی ممکنہ رسائی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا پاکستان اور تیونس کے درمیان دو طرفہ سیاسی مشاورت کا چوتھا دور 9 دسمبر کو تیونس کے دارالحکومت میں منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک نے سیاسی، اقتصادی اور علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ برائے افریقہ و سفیر حامد اصغر خان نے کی، جب کہ تیونس کی جانب سے ڈی جی برائے ایشیا سلیم غاریانی نے مذاکرات کی سربراہی کی۔ترجمان کے مطابق دونوں وفود نے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا مفصل جائزہ لیا۔ مشاورت میں سیاسی روابط، اعلی سطح وفود کے تبادلے، تجارت، سرمایہ کاری، دفاع اور سلامتی سمیت تعلیم اور عوامی رابطوں کو فروغ دینے پر بھی بات چیت ہوئی۔ اجلاس میں آئندہ برس اسلام آباد میں ہونے والے دسویں مشترکہ کمیشن اجلاس کے سلسلے میں اقتصادی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

ترجمان نے بتایا دونوں ممالک نے اقوام متحدہ اور او آئی سی جیسے کثیر ملکی فورمز پر باہمی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ مشاورتی اجلاس کے دوران مشرقِ وسطیٰ، فلسطین اور شمالی افریقہ کی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستانی وفد کے سربراہ حامد اصغر خان نے تیونس کے سیکریٹری آف اسٹیٹ محمد بن عائد سے علیحدہ ملاقات بھی کی۔ترجمان نے بتایا کہ انڈونیشیا کے صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا، جہاں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے اور متعدد معاہدوں و مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ صدر مملکت نے انڈونیشین صدر کو نشانِ پاکستان کا اعلیٰ اعزاز بھی عطا کیا۔ترجمان نے بتایا کہ ڈپٹی وزیراعظم نے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے الگ الگ رابطے کیے، جس میں غزہ کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان بھارتی وزیر دفاع کے حالیہ متنازع بیان کی شدید مذمت کرتا ہے اور بھارت کی ریاستی پشت پناہی میں پاکستان کے خلاف دہشت گردی جاری ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور دیگر آٹھ اسلامی و عرب ممالک نے رفاہ کراسنگ سے متعلق اسرائیلی مؤقف پر مشترکہ بیان جاری کیا۔ افغانستان سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان امدادی قافلے کو اپنی جانب سے کلیئر کرچکا ہے، اب یہ طالبان پر منحصر ہے کہ وہ اسے وصول کرتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ کی درخواست پر امداد بھجوا رہا ہے۔کشمیریوں کی غیر قانونی حراست سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق تقریباً 2800 کشمیری بھارتی جیلوں میں غیر قانونی طور پر قید ہیں، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کا ایک اعلی سطح وفد جلد ترکمانستان کا دورہ کرے گا، جس کی تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔ ترجمان نے کہا پاکستان کو افسوس ہے کہ بھارت مسلسل سارک کے عمل کو روک رہا ہے، اور یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ بھارت نے علاقائی تعاون کے اس فورم کو سیاسی مقاصد کی نذر کیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بھارت ماضی میں بھی کسی دوسرے ملک کے معاملے پر اسی طرح سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالتا رہا ہے، جس سے جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون متاثر ہوا۔ ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ملزموں کے تبادلے کا کوئی باقاعدہ معاہدہ موجود نہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاملات کو کیس ٹو کیس بنیاد پر دیکھتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ افغانستان میں پاکستان کا سفارتی مشن فعال ہے اور متعلقہ طریقہ کار کے تحت کابل کو دہشت گرد عناصر اور ان کے ہینڈلرز سے متعلق معلومات فراہم کی گئی ہوں گی۔

ترجمان نے کہا کہ اسرائیل اور بھارت کے دفاعی تعاون پر پاکستان پہلے بھی اپنے خدشات کا اظہار کرتا رہا ہے، اور بھارت کی جانب سے افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں سے رابطے کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس لیے بھارت کے ذریعے خطرناک ہتھیاروں تک دہشت گردوں کی ممکنہ رسائی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی اقتصادی شراکت داری مضبوط بنیادوں پر قائم ہے اور سعودی سرمایہ کاری ایس آئی ایف سی کے تحت جاری منصوبوں کے ذریعے مزید فروغ پا رہی ہے۔ افغانستان کے ساتھ حالیہ تناؤ پر انہوں نے کہا کہ دونوں فریق روایتی ریاستی جنگ بندی کی صورتحال میں نہیں، اور ابھی صورت حال اس قابل نہیں کہ بہتری کی بات کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیزفائر کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے، جبکہ پاکستان ہر طرح کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ریکوڈک منصوبے میں امریکی سرمایہ کاری سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتا ہے اور اسے ملکی معاشی ترقی کے لیے ایک مثبت سنگِ میل قرار دیتا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.