بلوچستان گرینڈ الائنس کا سخت احتجاج کرنیکا فیصلہ

حال نیوز۔۔۔۔۔۔ بلوچستان گرینڈ الائنس نے سخت ترین احتجاج کرنیکا فیصلہ کر لیا۔ حکومت ملازمین کے مطالبات کی منظوری اپنے دستخط اور اعلان کردہ وعدوں پر عملدرآمد سے گریزاں ہے، ملازمین نے رواں مالی سال بجٹ پیش ہونے سے قبل وزراء اراکین اور متعلقہ حکام سے ملکر ان کے سامنے اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ رکھا جسے خاطر میں نہیں لایا گیا اور بجٹ سیشن کے موقع پر نہ صرف ہمارے منظم اور پرامن احتجاج کو سبوتاژ کرنیکی کوشش کرکے گھروں پر چھاپے مار کر گرفتار کیا گیا اس طرح کا ظلم مارشل لاء کے دور میں بھی نہیں ہوا روٹی کپڑا مکان کے دعویدار جماعت میں ہورہا ہے۔ بلوچستان گریند الائنس کے مرکزی آرگنائزر پروفیسر عبدالقدوس کاکڑ نے کہا ہے کہ حکومت ملازمین کے مطالبات کی منظوری اور اپنے دستخط اور اعلان کردہ وعدوں پر عملدرآمد سے گریزاں ہے جسکی وجہ سے ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اگر تسلیم شدہ مطالبات پر عملدرآمد نہ کیا گیاتو طے شدہ شیڈول کے مطابق آج 12 دسمبر سے ضلعی ایکشن کمیٹی کے اجلاس منعقد ہونگے۔

بلوچستان گرینڈ الائنس کے قائدین کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے تمام اضلاع میں مظاہرے، ریلیاں، پریس کلبو ں کے سامنے احتجاجی کیمپ اور قلم چھوڑ ہڑتال کرکے سفارشات کی منظوری تک تحریک کو جاری رکھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ پریس میں مرکزی جنرل سیکرٹری بلوچستان گرینڈ حاجی علی اصغر بنگلزئی، علی بخش جمالی، شفاء مینگل، شاہ علی بگٹی سمیت دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین نے رواں مالی سال بجٹ پیش ہونے سے قبل وزراء اراکین اور متعلقہ حکام سے ملکر ان کے سامنے اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ رکھا جسے خاطر میں نہیں لایا گیا اور بجٹ سیشن کے موقع پر نہ صرف ہمارے منظم اور پرامن احتجاج کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرکے گھروں پر چھاپے مار کر گرفتار کیا گیا اس طرح کا ظلم مارشل لاء کے دور میں بھی نہیں ہوا روٹی کپڑا مکان کے دعویدار جماعت میں ہورہا ہے۔

بلوچستان گرینڈ الائنس کے قائدین کا کہنا تھا کہ سخت احتجاج کے باوجود وزراء اور سیکرٹریز پر مشتمل کمیٹی سے مذاکرات کے بعد سفارشات پر مکمل اتفاق منٹس آف دی میٹنگز تیار کرکے مشترکہ سفارشات پر دستخط کئے گئے اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کو بریفنگ دی گئی اور ہمیں واضح یقین دہانی کرائی کہ مسئلہ حل کیا جائے گا۔ مگر سفارشات کابینہ اجلاس میں منظور ہونے کے باوجود وزراء کی عدم موجودگی اور کبھی دیگر وجوہات کی بناء پر سفارشات کو کابینہ اجلاس سے ڈراپ کیا جاتا رہا پیشرف کے بعد چیئرمین حکومتی کمیٹی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہاکہ وزیر تعلیم کی والدہ کی وفات کی وجہ سے کابینہ اجلاس میں شریک نہیں تھیں اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔اس کے باوجود چھ ماہ کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ہم امید بھری نظروں سے حکومت حکام کے رد عمل کا انتظار کرتے رہے اب ملازمین مزید بے توقیری برداشت نہیں کریں گے۔

بلوچستان گرینڈ الائنس کے قائدین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے بلوچستان گرینڈ الائنس کی مجلس عاملہ، ایکشن کمیٹی، آرگنائزنگ باڈی ممبران کا اجلاس طلب کرکے تاخیری حربوں پر تشویش کا اظہار اور متفقہ طور پر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرکے احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دیکر آج 12 دسمبر کو تمام اضلاع میں بلوچستان گرینڈ الائنس کے ضلعی ایکشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوگا۔ 13 دسمبر کو تمام اضلاع میں ضلعی ایکشن کمیٹی کے عہدیدان پریس کانفرنس کریں گے۔ 15 اور 16 دسمبر کو تمام سرکاری دفاتر پر سیاہ جھنڈے اور ملازمین بازؤں پر پٹیاں باندھیں گے۔ 17 دسمبر کو قلات ڈویژن اور سبی ڈویژن کے اضلاع،18 دسمبر کو ژوب اور رخشان ڈویژن، 19 دسمبر کر مکران اور نصیر آباد ڈویژن، 20 دسمبر کولورالائی اور کوئٹہ ڈویژن کے اضلاع پشین، قلعہ عبداللہ اور چمن میں ریلیاں نکال کر احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔23 دسمبر کوئٹہ شہر گرینڈ الائنس کی صوبائی ریلی اور احتجاجی مظاہرہ ہوگا۔24 اور 26 دسمبر کوئٹہ سمیت بلوچستان کے تمام اضلاع میں پریس کلبوں کے باہر احتجاجی کیمپ لگائے جائیں گے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.