چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی علماء و مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاستِ طیبہ اور ریاستِ پاکستان کا باہمی تعلق نہایت گہرا اور تاریخی بنیادوں پر استوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مسلم ممالک میں سے محافظینِ حرمین کا منفرد شرف پاکستان کو عطا کیا ہے، جو ہمارے لیے اعزاز بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے خطاب میں علم، تحقیق اور فکری مضبوطی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جس قوم نے علم و قلم کو ترک کیا وہاں انتشار اور فساد نے جڑ پکڑی۔
چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیرکا کہنا تھا کہ عزت، طاقت اور استحکام تقسیم یا انتشار سے نہیں بلکہ محنت، نظم و ضبط اور علم سے حاصل ہوتے ہیں۔انہوں نے دہشتگردی کے حوالے سے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی پاکستان کا نہیں بلکہ ہندوستان کا وطیرہ ہے۔ ہم دشمن کا مقابلہ چھپ کر نہیں بلکہ للکار کر کرتے ہیں اور اپنی سرزمین پر کسی بھی قسم کی جارحیت یا دہشتگردی برداشت نہیں کریں گے۔
فیلڈ مارشل نے واضح کیا کہ اسلامی ریاست میں جہاد کا اعلان کرنا صرف ریاست کا اختیار ہے، کوئی فرد، گروہ یا تنظیم اس کا فیصلہ خود نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں ہمیشہ اللہ کی نصرت شامل رہی ہے اور پاکستان نے ہر چیلنج کا بہادری سے مقابلہ کیا ہے۔فیلڈ مارشل نے علماء مشائخ پر زور دیا کہ وہ قوم کو متحد رکھنے اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی ہم آہنگی، برداشت اور قومی یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے اور علماء کرام اس میں بنیادی کردار کے حامل ہیں۔خطاب کے اختتام پر انہوں نے بلند عزم کے ساتھ کہا پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔