عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں ہو سکتے، اچکزئی

حال نیوز۔۔۔۔۔۔ عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات نہیں ہو سکتے، انسانی حقوق کے عالمی دن اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں پر تشدد افسوسناک ہے‘ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت لینا ہوگی ہم اس کی اجازت کے بغیر کیسے مزاکرات کرسکتے ہیں۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے عالمی دن اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں پر تشدد افسوسناک ہے۔ بدھ کو دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ آج انسانی حقوق کا عالمی دن ہے مگر رات 2 بجے پاکستان نے خوبصورتی سے اڈیالہ کے باہر انسانی حقوق کا دن منایاہے۔

محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ غیر آئینی اور فسطائیت والے رویے اپنا کر ہم سے امید کی جاتی ہے کہ ہم احتجاج بھی نہ کریں ان میں عقل سلیم نہیں ہے یار لوگوں کو حکم ملا ہے کہ کسی کو بولنے نہیں دینا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ کہ اس طرح ملک آگے نہیں بڑھ سکتا‘اس ملک کو آئین پاکستان اکھٹا رکھے ہواہے۔اس ملک کے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے آئین نام کی کوئی چیز نہیں رہی کوئی وعدہ پورا نہیں کیا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کہ عدالتی حکم کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں ایک ادارے کے ترجمان نے 2 گھنٹے کی سیاسی پریس کانفرنس کی اگر وہ کسی اور ملک میں ہوتے تو آج اپنے عہدے پر نہ ہوتے۔

محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ الیکشن جیتا ہوا رہنما جیل میں قید ہے اس سے ملاقات کی پابندی لگا دی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کہ اگر کوئی ڈائیلاگ کرنا چاہتا ہے تو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت لینا ہوگی ہم اس کی اجازت کے بغیر کیسے مزاکرات کرسکتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ کہ ہمارے پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک کی ٹانگ ٹوٹ گئی بانی پی ٹی آئی کی بزرگ بہنوں پر سرد رات میں ٹھنڈے پانی سے نہلا دیا گیا اگر عوام اٹھ پڑی تو سب کچھ جل جائے گاان کا کہنا تھا کہ کہ بربادی سے پہلے پہلے ڈائیلاگ کی طرف بڑھا جائے اور ڈائیلاگ کی شروعات کے لیے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائی جائے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ الیکشن کے بعد سے اب تک پی ٹی آئی پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں بس اب بہت ہوگیا ہے، والدین کو جیل میں رکھ کر ان کے بچوں سے کیسے بات کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ کہ زور اور طاقت سے کچھ حاصل نہیں ہوگاان کا کہنا تھا کہ کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات بند کرکہ کچھ حاصل نہیں ہوگا پاکستان کی عوام کو طیش نہ دلوائیں بانی پی ٹی آئی سے بہنوں اور وکلاء کی ملاقات کروائی جائیان کا کہنا تھا کہ کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہمارے سے اور جیل حکام سے مشاورت کے بعد فیصلہ جاری کیا تھا ملک اور جمہوریت کا نقصان ہورہا ہے ان کا کہنا تھا کہ کہ یہ پارلیمان میں ناجائز طور پر بیٹھے ہیں اس طرح معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کہ ہم آج ایوان میں بات کرنا چاہتے تھے مگر آج جان بوجھ کر ایوان کی کارروائی ملتوی کی گئی۔ اس سے کوئی تیسری قوت فائدہ اٹھائے گی یہ بیانہ ہے کہ ملاقات اس لیے بند ہے کہ ٹوئٹ کیا جاتا ہے بشری بی بی کی ملاقات پھر کیوں بند ہے؟ سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز اڈیالہ میں پیش آنے والے واقع کی بھرپور مزمت کرتے ہیں یہ فاشسٹ حکومت ہے‘یہ آئین اور قانون کو نہیں مانتے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ 20 اور 21 دسمبر کو قومی کانفرنس بلائی جائے ہم تمام سیاسی جماعتوں اور بار ایسوسی ایشنز کو دعوت دین گے اس قومی کانفرنس میں ہم قومی ایجنڈا دیں گے عوام سے اس کا حق چھین لیا گیا ہے۔

ہم پر امن لوگ ہیں ہم آئین اور قانون کے مطابق آگے بڑھیں گے ان کا کہنا تھا کہ کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے اور بانی پی ٹی آئی کو کسی اور جگہ منتقل کرنے سے ملک انارکی کی طرف بڑھے گیان کا کہنا تھا کہ کہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز میرٹ پر سنے جائیں اور کل جو واقع پیش آیا جنہوں نے اس کا حکم دیا ان کے خلاف کاروائی کا حکم دیا جائیان کا کہنا تھا کہ کہ ہم متحد ہیں ہم ڈریں گے نہیں ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقع کے خلاف جوڈیشل انکوائری کی جائے تحریک انصاف کے چیف وہپ ملک عامر ڈوگر کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر عمران خان کی بہنوں اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا پر امن لوگوں کو طاقت کے زور پر وہاں سے اٹھایا گیا۔

ہمارے پارلیمان لیڈر شاہد خٹک کی ٹانگ فریکچر ہوئی اور عمران خان کی بہنیں بھی زخمی ہوئی ہیں ان کا کہنا تھا کہ کہ اس غیر قانونی اقدام کی ہم پر زور مزمت کرتے ہیں پولیس کی بھاری نفری ہم پر حملہ آور ہوئی میں، اسامہ میلہ اور دیگر گاڑی میں بیٹھے ہوئے تھے ہماری گاڑی توڑی گئی ان کا کہنا تھا کہ کہ پنجاب میں پولیس گردی عروج پر ہے خرم ورک کی گاڑی سمیت متعدد گاڑیوں کو چکنا چور کردیا گیاانہوں کا کہنا تھا کہ ہم اس افسوسناک واقع کے خلاف تحریک استحقاق سپیکر آفس میں جمع کروانے جارہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ کہ ہم پیچھے نہیں ہٹیں گیہم عمران خان کے ساتھ تھے اور ساتھ رہیں گے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.