حال نیوز۔۔۔۔۔۔ عمران خان کو اڈیالہ جیل سے کہیں اور منتقل کرنے پر غور شروع ہو گیا، حکومت نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کو اڈیالہ جیل سے منتقل کرنے پر غور شروع کر دیا۔وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، احتجاج کے نام پر فتنہ فساد کی کوشش کی جا رہی ہے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کہ معاملات اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔
اختیار ولی نے کہا یہ چاہتے ہیں کہ قیدی کو اڈیالہ سے منتقل کر دیا جائے، حکومت بھی سنجیدگی سے اس پر غور کر رہی ہے۔اختیار ولی خان نے الزام عائد کیا کہ وزیرِاعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کا منشیات کے اسمگلروں سے گٹھ جوڑ ہے۔اختیار ولی کا کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان نے دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بلند کیا، یہ لوگ مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کرتے ہیں، یہ لوگ ملکی وقار اور ترقی پر آئے روز حملہ آور ہو رہے ہیں۔پی ٹی آئی نے بانی سے ملاقات کیلئے پارلیمان کی کمیٹی تشکیل کا مطالبہ کردیا‘تشکیل کیلئے نام چیئرمین سینیٹ کو ارسال کر دیئے گئے۔
قانونی طورپر سینیٹرز سابق وزیراعظم و سابق رکن قومی اسمبلی سے ملاقات اور دستیاب سہولیات جائزہ لینے کے مجاز ہیں، پی ٹی آئی نے بانی سے ملاقات کیلئے پارلیمان کی کمیٹی تشکیل کا مطالبہ کردیا اور کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے پارلیمان کی کمیٹی تشکیل دی جائے جبکہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کیلئے نام چیئرمین سینیٹ کو ارسال کردیئے ہیں۔نام پارلیمانی لیڈر سینٹر علی ظفر نے چیئرمین سینیٹ کو ارسال کئے۔سینیٹ کی جانب سے سینیٹر علی ظفر،حامد خان،اعظم سواتی اور معشال یوسفزئی کا نام شامل ہیں۔
درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ کی حالات زار بارے جیل کا دورہ کرنا چاہتی ہے، قانونی طورپر سینیٹرز سابق وزیراعظم و سابق رکن قومی اسمبلی سے ملاقات اور دستیاب سہولیات جائزہ لینے کے مجاز ہیں،سینیٹرز کو اپنے قائد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات روکنا غیر انسانی و غیر قانونی ہے،گزارش ہے ملاقات کے معاملے پر پارلیمانی حقوق اور استحقاق کی کمیٹی تشکیل دی جائے،پارلیمان کی کمیٹی کی تشکیل کی سفارش سب سے بڑی سیاسی جماعت نے بھی کی۔