امریکا کی نئی پالیسی ماسکو کے ویژن کے قریب ہے،امید ہے کہ امریکی پالیسی میں تبدیلی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ دونوں ممالک یوکرین کے مسئلے کے حل کے لیے مل کر کام کریں۔ روس نے امریکا کی قومی سلامتی کی حکمت عملی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے بڑے پیمانے پر ماسکو کے وژن کے مطابق قرار دیا ہے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ امریکی پالیسی میں تبدیلی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ دونوں ممالک یوکرین کے مسئلے کے حل کے لیے مل کر کام کریں 29صفحات پر مبنی نئی پالیسی اب روس کو امریکہ کے لیے خطرہ نہیں سمجھتی۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ یوکرین میں دشمنی کے تیزی سے خاتمے کے لیے مذاکرات واشنگٹن کے بنیادی مفادات میں سے ایک ہیں رپورٹ میں غیر ملکی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے، وسیع پیمانے پر بدعنوانی کے خاتمے اور یورپی یونین کی نام نہاد سنسر شپ کی پالیسیوں کو دیگر ترجیحات کے طور پر مسترد کرنے کا ذکر کیا گیا ہے یہ حکمت عملی یہ بھی انتباہ کرتی ہے کہ یورپ کو تہذیب کے خاتمے کے خطرے کا سامنا ہے یورپی یونین کے بعض عہدیداروں اور تجزیہ کاروں نے صدر ٹرمپ کی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے اسے بہت زیادہ روسی جیسا قرار دیا ہے۔
کچھ یورپی سیاست دانوں نے سوال کیا ہے کہ کیا امریکہ اب اتحادی سے دشمن بن گیا ہے روایتی طور پر امریکہ کی سلامتی کی حکمت عملی کا محور روس، چین اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر رہا ہے جو اب لاطینی امریکہ اور کیریبین میں منتقل ہو چکا ہے دمتری پیسکوف نے روسی نشریاتی ادارے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم جو تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں وہ بڑی حد تک ہمارے وژن سے مطابقت رکھتی ہیں انہوں نے کہا کہ ہم اسے ایک مثبت قدم قرار دیتے ہیں تاہم واضح کیا کہ ماسکو کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے دستاویز کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس حکمت عملی میں روس کے خلاف نرم زبان استعمال کی گئی ہے جس سے یورپی یونین کے حکام کو تشویش ہے کہ ماسکو کے خلاف ان کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے کیونکہ یوکرین میں جنگ کو ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں اس پالیسی میں ایشیا کو امریکہ کے لیے ایک ترجیحی میدان کے طور پر دیکھا گیا ہے یہ پالیسی چین کے بارے میں بہت تصفیل سے بات کرتی ہے اور صدر ٹرمپ کے اس سے نمٹنے کے طریقوں کی وضاحت کرتی ہے فارن پالیسی میگزین کے مطابق جیسے ہی رپورٹ نومبر 2025میں جاری ہوئی ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی قومی سلامتی کی حکمت عملی کو ایک متوقع تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ دستاویز ٹرمپ کے امریکہ پہلے کے جذبات کو ایک خارجہ پالیسی کے نظریے میں تبدیل کرنے کی کوشش تھی نے بلند پرواز مقاصد کو طریقوں اور وسائل کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں ناکامی کا سامنا کیا مقاصد میں ترجیحات کا تعین نہیں کیا اور اصل صدارتی ارادے کو واضح نہیں کیا یہ تنقیدیں بالکل درست ہیں نارویجن سفارت کار ایرک سلہیم نے ایکس پر اس حکمت عملی کا خلاصہ پیش کیا کہ اس ہفتے جاری کردہ نئی امریکی قومی سلامتی کی حکمت عملی کے اصل عنوانات ہیں امریکہ کو غالب بنا، چین کا احترام کرو، یورپ کو کمزور کرو، بھارت کو نظر انداز کرو، مشرق وسطی سے پیچھے ہٹو۔
افریقہ کی کوئی پرواہ نہ کرو یہ یہ حکمت عملی پہلی بار امریکہ سرکاری طور پر تسلیم کرتا ہے کہ امریکہ اب دنیا کو نہیں چلا سکتا عالمی غلبے سے امریکہ کا پیچھے ہٹنا خوش آئند ہے باقی ہم سب کو اس موقع پر اٹھنا ہوگا اور نئے عالمی نظام کو تشکیل دینا ہوگا صدرٹرمپ 2.0کی عالمی نظریے کی اس دستاویز میں تاہم انڈیا کے سرسری ذکر کے علاوہ افغانستان یا پاکستان کا کوئی ذکر نہیں ہے دستاویز میں یورپی یونین پر جنگ کے خاتمے کی امریکی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ امریکہ کو روس کے ساتھ تزویراتی استحکام دوبارہ قائم کرنا چاہیے جو یورپی معیشتوں کے استحکام کا باعث بنے گا۔
نئی رپورٹ میں مغربی شناخت کے احیا کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے اور یہ دعوی کیا گیا ہے کہ یورپ 20سال یا اس سے کم عرصے میں ناقابل شناخت ہو جائے گا دستاویز میں کہا گیا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا کچھ یورپی ممالک کے پاس اتنی مضبوط معیشتیں اور فوجیں ہوں گی کہ وہ قابل اعتماد اتحادی رہیں جیسا کہ امریکہ کی نئی قومی سلامتی کی حکمت عملی کے خلاف ردعمل جاری ہے، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی امن منصوبے پر یورپی راہنماں کے ساتھ بات چیت کے لیے لندن جا رہے ہیں۔