حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔ پی ٹی آئی نے عمران خان سمیت تمام قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر دیا، پاکستان تحریک انصاف نے پشاور جلسے میں اہم قرارداد منظور کرلی، ہم پاکستانی عوام عمران خان کو قومی ہیرو اور منتخب حقیقی وزیراعظم مانتے ہیں، ہم مسترد کرتے ہیں کہ وہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے پشاور جلسے میں اہم قرارداد منظور کرلی۔ تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے پشاور جلسے میں منظور کی جانے والی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ہم پاکستانی عوام عمران خان کو قومی ہیرو اور منتخب حقیقی وزیراعظم مانتے ہیں، ہم مسترد کرتے ہیں کہ وہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان و بشری بی بی اور تمام قیدیوں کو انصاف فراہم کرتے ہوئے فوری رہا کیا جائے۔پی ٹی آئی نے قرارداد میں مزید کہا کہ عمران خان کو اہل خانہ اور وکلا سے ملاقات کی اجازت دی جائے، تمام سیاسی شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، خیبرپختونخواہ میں کسی بھی گورنر راج کی مخالفت کرتے ہیں، ہم ڈی جی آئی ایس پی آر کے پریس کانفرنس میں استعمال کیے گئے الفاظ اور لہجے پر شدید احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں، ایک غیر منتخب سرکاری ترجمان نے منتخب عوامی نمائندے کے لیے غیر مہذب زبان استعمال کی ہے۔
پختون قبائلی ہوں، میری تربیت ایسی نہیں کہ میں گالیاں دوں،پہلے دو جوکر پریس کانفرنس کرتے ہیں، غیر اخلاقی بات کرتے ہیں، اگلی صبح ایک ادارے کا ڈی جی پریس کانفرنس کرتا ہے، میرے بارے غلط الفاظ استعمال کرتا ہے، وزیراعلی خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ پہلے دو جوکر پریس کانفرنس کرتے ہیں، غیر اخلاقی بات کرتے ہیں، اگلی صبح ایک ادارے کا ڈی جی پریس کانفرنس کرتا ہے، میرے بارے غلط الفاظ استعمال کرتا ہے، ڈی جی آیی ایس پی آر اور جعلی سینیٹر، وزرا میں فرق ہونا چاہیئے، نہ ہی آپ جعلی سینیٹر ہیں اور نہ ہی کسی پارٹی کے رہنما ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ آپ ایک مضبوط ادارے کے ڈی جی ہیں، آپ کو ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیئے۔پی ٹی آئی کے پشاور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں پختون قبائلی ہوں، میری تربیت ایسی نہیں کہ میں گالیاں دوں، ہم نے اپنے ملک کی خاطر 80ہزار جانوں کی قربانیاں دی ہیں، ہم صرف تنقید نہیں کرتے بلکہ حل بھی بتاتے ہیں، ایک بندہ آتا ہے ایک فیصلہ کرتا ہے دوسرا آتا ہے دوسرا کرتا ہے، یہ خیبرپختونخواہ ہے کوئی لیبارٹری نہیں ہے۔
سہیل آفریدی کہتے ہیں کہ 21سال سے آپریشن پہ آپریشن، آپریشن پہ آپریشن، ڈرون پر ڈرون، 21سال سے میرے پختونوں کا خون بہہ رہا ہے، 21سال سے میرا پختون پاکستانیوں کیلئے جانیں دے رہا ہے، اپنی پالیسی بدلو، اب صرف ایک ہی پالیسی بنے گی، دہشتگردی بارے سنجیدہ نہ ہونے کا ہمیں طعنہ دینے والو اپنی پالیسی بدلو، 21سال سے ملٹری آپریشن سے کامیابی نہیں ملی، پالیسی وہ چلے گی جو عوام چاہے گی، میں اقبال کا شاہین ہوں، کوے اگر مجھے چونچ ماریں گے تو ہم نے اپنی پرواز اونچی کرنی ہے، سیاسی کوے ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔