حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو نظر انداز کرنے نا انصافی ہے، وفاق کی نورا کشتی اور اسٹیبلشمنٹ کی ناکام سیاسی تجربات نے بلوچستان کے مظلوم عوام کو نقصان پہنچایا ہے۔ جمہوری وطن پارٹی کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ وفاق کی نورا کشتی اور اسٹیبلشمنٹ کے ناکام سیاسی تجربات نے سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے مظلوم عوام کو پہنچایا ہے۔ دہائیوں سے صوبے کو تجربہ گاہ بنا کر جو پالیسیاں مسلط کی گئیں، ان کے نتیجے میں آج بلوچستان بدامنی، بے روزگاری، معاشی تباہی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔
جمہوری وطن پارٹی کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ بلوچستان وسائل سے مالا مال خطہ ہے لیکن وفاقی سطح پر ہونے والی طاقت کی کھینچا تانی اور نمائشی فیصلوں نے صوبے کو ترقی سے محروم رکھا۔ امن و امان کی بگڑتی صورتحال، بڑھتی ہوئی جرائم کی وارداتیں اور عدم تحفظ نے شہریوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے جبکہ حکومت کی طرف سے کوئی جامع حکمت عملی نظر نہیں آتی۔جمہوری وطن پارٹی کے مرکزی ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بے روزگاری کی شرح خوفناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
جمہوری وطن پارٹی کے مرکزی ترجمان کا کہنا تھا کہ بڑے منصوبوں میں مقامی نوجوانوں کو نظر انداز کر کے باہر سے افراد لانا ناانصافی ہے، جس سے عوام میں احساسِ محرومی اور بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے قدرتی وسائل کا حقیقی فائدہ آج بھی عوام کو نہیں مل رہا، اور یہ بدترین معاشی ناانصافی ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام نے بلوچستان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ کبھی حکومتیں گرا کر، کبھی غیر مقامی فیصلے مسلط کر کے اور کبھی بنائے گئے مصنوعی اتحادوں کے ذریعے صوبے کے عوامی مینڈیٹ کو ہمیشہ کمزور کیا گیا۔
مرکزی ترجمان نے کہا کہ ملک کے موجودہ سیاسی و معاشی بحران نے بلوچستان کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، صحت و تعلیم کا فقدان اور پانی جیسی بنیادی سہولیات کا بحران عوام کی زندگی اجیرن بنا چکا ہے۔آخر میں مرکزی ترجمان جمہوری وطن پارٹی نے مطالبہ کیا کہ وفاق بلوچستان پر سیاسی تجربات بند کرے اور صوبے کو آئینی حقوق، معاشی انصاف، امن و استحکام اور بااختیار مقامی حکمرانی فراہم کی جائے۔ بلوچستان پاکستان کا اہم ترین ستون ہے، اور جب تک اس کے عوام کو ان کا جائز حق نہیں ملتا، ملک کی مجموعی ترقی ممکن نہیں۔