حال نیوز۔۔۔۔۔۔ روس یورب کیلئے سب سے بڑا اور براہِ راست خطرہ ہے، یورپ کو روس سے حقیقی اور دیرپا خطرات لاحق ہیں نیٹو کی ہر انچ زمین کا دفاع کیا جائے گا،پوتن سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیں تھکا دیں گے لیکن ہم کہیں نہیں جا رہے ہیں اتحادی ممالک کو زیادہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ برسلز میں یوکرین میں جنگ بندی سے متعلق امور پر غور کرنے کے لیے مغربی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک ڑثے نے پریس کانفرنس میں خبردار کیا ہے کہ یورپ کو روس سے حقیقی اور دیرپا خطرات لاحق ہیں انہوں نے کہا کہ روس کی بڑھتی ہوئی غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں جیسے فضائی حدود کی خلاف ورزی اور سائبر حملوں کے پیشِ نظر نیٹو کو ڈٹ کر روس پر کڑی نگرانی رکھنے کی ضرورت ہے۔
مارک ڑثے نے کہا کہ اتحادی ممالک کو زیادہ کردار ادا کرنا ہوگا، اسی لیے وزرائے خارجہ نے دفاعی اخراجات کے لیے جی ڈی پی کا پانچ فیصد سالانہ مختص کرنے پر بات کی ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کی ہر انچ زمین کا دفاع کیا جائے گا.مارک ڑثے نے کہا کہ نیٹو کی حمایت یوکرین کے لیے عملی طور پر فرق ڈال رہی ہے، خاص طور پر فضائی دفاع کے ذریعے یوکرین کو اپنے پاں پر کھڑے رہنے اور عوام کو محفوظ رکھنے میں مدد مل رہی ہے انہوں نے یوکرین کی ناقابل یقین مزاحمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پوتن سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیں تھکا دیں گے لیکن ہم کہیں نہیں جا رہے ہیں مارک ڑثے نے کہا کہ آج کے فیصلے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پوتن غلطی پر ہیں۔
مارک ڑثے نے زور دیا کہ امن کی سب سے زیادہ خواہش یوکرین کی ہے اور نیٹو اپنے عوام اور زمین کے تحفظ کے لیے جو کچھ بھی کرنا پڑے کرے گا صحافیوں کے سوالات کے جواب میں مارک ڑثے نے کہا کہ اتحادی ممالک پہلے ہی اس بات پر متفق ہیں کہ روس نیٹو کے لیے سب سے بڑا اور براہِ راست خطرہ ہے اور اس سوچ پر تمام اتحادی مکمل طور پر متفق ہیں.ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ یوکرین جنگ کے حل میں دنیا میں صرف ایک شخص کردار ادا کر سکتا ہے اور وہ ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جو فروری سے امن معاہدے کے لیے کوشاں ہیں۔
سیکرٹری نیٹو نے کہا کہ یہ عمل مرحلہ وارہوگا اور انہوں نے اس پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا تاکہ مذاکرات مشکل نہ ہوں ہتھیاروں کی فراہمی کے امریکی و نیٹو پروگرام پر تنقید کے جواب میں مارک رٹے نے کہا کہ دو تہائی اتحادی اس سکیم میں شامل ہو چکے ہیں اور اب یوکرین کو مسلسل ہتھیار فراہم کیے جا رہے ہیں جس سے روس پر دبا بڑھ رہا ہے اور یہ پیغام جا رہا ہے کہ ہم کہیں نہیں جا رہے یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لاین کی جانب سے روسی منجمد اثاثے یوکرین کی مالی ضروریات کے لیے استعمال کرنے کے اعلان پر مارک ڑثے نے کہا کہ یہ معاملہ بنیادی طور پر یورپی یونین کے سامنے ہے اور انھیں اس قیادت پر مکمل اعتماد ہے پولینڈ میں ریلوے لائن پر دھماکے جیسے حملوں کے بارے میں مارک نے کہا کہ یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور ناقابلِ قبول ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیٹو اپنی انٹیلیجنس اور پولینڈ کے ساتھ مل کر تحقیقات کرے گا اور پی یو آر ایل پروگرام کے ذریعے مزید اقدامات کیے جائیں گے ہم اپنے طریقے سے جواب دیں گے اور روس کو یہ محسوس ہوگا سیکرٹری نیٹو نے کہا کہ روس اپنے بجٹ کا 40فیصد دفاع پر خرچ کر رہا ہے اور نیٹو کو اس کا جواب دینا ہوگا اس میں پانچ فیصد دفاعی اخراجات کا وعدہ اور دفاعی صنعت کو مطلوبہ پیداوار یقینی بنانا شامل ہے انہوں نے کہا کہ فوجی بھرتی یا خواتین کی شمولیت جیسے فیصلے ہر ملک کی اپنی صوابدید ہیں امن مذاکرات پر سوال کے جواب میں مارک ڑثے نے کہا کہ وہ اس عمل پر تبصرہ نہیں کریں گے لیکن زور دیا کہ روس پر دبا جاری رکھنا ہوگا انہوں نے کہا کہ یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی اور معاشی دبااس بات کو یقینی بنائے گا کہ پوتن کے پاس کوئی راستہ نہیں بچے گا اور بالآخر انھیں سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔