صوبائی وزیر زراعت میر علی حسن زہری کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑے تو وہ مزید ذاتی گاڑیاں بھی ساتھ لے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند شر پسند عناصر غلط بیانی اور جھوٹے بیانیوں کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر ان کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ وہ نہ تو سرکاری گاڑیاں استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کا پروٹوکول لیتے ہیں۔ پولیس کی موبائل صرف جرمن وفد کی سیکیورٹی کے لیے موجود تھی۔ ضرورت پڑنے پر وہ پولیس کی گاڑیاں طلب کر لیتے ہیں، تاہم ان کی حالت ٹھیک نہ ہونے کے باعث وہ اپنی ذاتی سیکیورٹی کو ترجیح دیتے ہیں۔میر علی حسن زہری نے کہا کہ ان پر اللہ کی خصوصی مہربانی ہے کہ صدرِ پاکستان جناب آصف علی زرداری ان کا بھرپور خیال رکھتے ہیں اور انہیں اپنی پرسنل SSU کی سیکیورٹی بھی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مستقبل میں چاہیں گے تو اپنی مزید سفید ذاتی سیکیورٹی گاڑیاں بھی ساتھ لے جائیں گے۔
صوبائی وزیر زراعت میر علی حسن زہری کا کہنا تھا کہ عوام کی بے لوث محبت اور اعتماد ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔ حب کے پی پی پی رہنماؤں، کارکنوں، معززین اور شہریوں نے ہمیشہ ان کا جس محبت سے استقبال کیا، وہ ان کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی یہ حمایت اْن لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے جو صرف پروپیگنڈا کر سکتے ہیں مگر عوامی پذیرائی حاصل نہیں کر سکتے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں اپنے حلقے کے دورے اسی انداز میں جاری رکھوں گا اور جو لوگ کچھ اچھا نہیں کر سکتے وہ صرف اچھے کام کرنے والوں کے بارے میں فضول باتیں کر سکنے کے علاوہ کچھ نہیں سکتے۔
وزیر زراعت و کوآپریٹوز بلوچستان میر علی حسن زہری نے مزید میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری ان کا بھرپور خیال رکھتے ہیں اور وہ آئندہ اپنے ساتھ سو مزید سفید ذاتی سیکیورٹی گاڑیاں بھی لے جاسکتے ہیں کیونکہ یہ کوئی سرکاری پروٹوکول نہیں بلکہ ذاتی سیکیورٹی ہے۔ میر علی حسن زہری نیحب کے پی پی پی رہنماؤں، کارکنوں اور معززین و دیگر حب باشندوں جو اپنے رہنما کے استقبال کے لیئے آتے ہیں ان کا شکریہ ادا کیا جو ہر دورے پر دل و جان سے ان کے قافلے میں شامل ہوتے ہیں۔ میر علی حسن زہری نے کہا کہ عوام کی یہ محبت کم ذہنیت رکھنے والے پروپیگنڈا سازوں کے لیے دردِ سر ہے اور وہ صرف حسد میں مبتلا ہیں اور حسد کا کوئی علاوج نہیں۔