اطلاع ملتے ہی ریسکیو اداروں اور پولیس کی جانب سے شہدا کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور جائے وقوع سے شواہد بھی اکٹھے کیے جا رہے ہیں، بم دھماکے کے بعد ڈی ایس پی پنیالہ اور ایس ایچ او موقع پر پہنچ گئے جبکہ علاقے کی ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس گاڑی پر فتنہ خوارج کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے تین بہادر اہلکاروں کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ حملے میں اے ایس آئی گل عالم، کانسٹیبل رفیق اور سخی جان نے وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ قوم یاد رکھے گی اور سکیورٹی فورسز کی یہ ثابت قدمی دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بناتی رہے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کے پی پولیس نے ہر مشکل گھڑی میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے اور ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ شہداء کے خاندانوں کی دیکھ بھال اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔