پاکستان تحریک انصاف میں اختلافات مزید گھمبیر ہو گئے

حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان تحریک انصاف میں اختلافات مزید گھمبیر ہو گئے، تحریک انصاف اندرونی خلفشار کا شکار‘ سینئررہنماؤں نے علیمہ خان سے ٹیکنوکریٹ لوگوں سے جان چھڑانے کا مطالبہ کر دیا، سلمان اکرم راجہ کا غیر سیاسی رویہ اور پالیسیاں پارٹی کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں‘مخالفین متحرک ہوچکے ہیں، وکلا دھڑا اسمبلیوں سے استعفوں کے آپشن پر غور کا حامی‘سیاسی رہنما پارلیمانی کردار محدود کرنے کی کسی بھی کوشش کے مخالف ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اندرونی خلفشار کا شکار ہوچکی ہے اور سینئررہنما علیمہ خان سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ پارٹی کی اس پر مسلط ٹیکنوکریٹ لوگوں سے جان چھڑائیں۔

پاکستان تحریک انصاف ذرائع کے مطابق سیاسی بیک گراؤنڈ رکھنے والے متعدد سیاسی رہنما سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے خلاف متحرک ہوچکے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ سلمان اکرم راجہ کا غیر سیاسی رویہ اور پالیسیاں پارٹی کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں۔پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی شدید اندرونی خلفشار کا شکارہونے کے باعث سینئررہنما علیمہ خان سے رابطے میں ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ پارٹی پر مسلط ٹیکنوکریٹ گروپ سے جان چھڑائیں اوردرخواست کر رہے ہیں کہ بانی سے ملاقات میں ہماری تجویز کی منظوری حاصل کریں۔

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق سیاسی بیک گراؤنڈ رکھنے والے متعدد سیاسی رہنما سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے خلاف متحرک ہوچکے ہیں اوران سیاسی رہنماؤں کا موقف ہے کہ سلمان اکرم راجہ کا غیر سیاسی رویہ اور پالیسیاں پارٹی کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں۔ اس طرح سیاسی قیادت اور ٹیکنوکریٹ قیادت کے اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں سلمان اکرم راجہ کے خلاف پارٹی میں گروپ بندی ہوچکی ہے، سیاسی قیادت ریاست سے ٹکرا ؤکی مخالف اور مذاکرات کی حامی ہے جبکہ وکلا قیادت ٹاکرا اور مزید دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی پر مصرہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق وکلا دھڑا اسمبلیوں سے استعفوں کے آپشن پر غور کا حامی ہے جبکہ پارلیمانی کردار محدود کرنے کی کسی بھی کوشش کی سیاسی رہنماؤں کی طرف سے سخت مخالفت کی جا رہی ہے۔سینئر سیاسی رہنماؤں نے وکلا گروپ کو پارٹی بند گلی تک پہنچانے کا ذمہ دار قرار دے داور ان کا موقف ہے کہ پارٹی پر مسلط وکلا کے غیرسیاسی فیصلوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر کے لیے پی ٹی آئی سے باہر سے نامزدگیاں بھی وجہ تنازعہ بنی ہوئی ہیں اور سیاسی کمیٹی کے فیصلے مسلسل نظرانداز کیے جانے پر بھی سیاسی رہنما برہم ہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.