حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔۔اگر جنگ کی طرف دھکیلا گیا تو ہم تیار ہیں، یورپ اگر جنگ کرنا چاہتا ہے تو روس بھی تیار ہے، پہلے یورپی لیڈرز یوکرین کے حوالے مذاکرات سے الگ رہے اب معاہدہ خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ یورپ اگر جنگ کرنا چاہتا ہے تو روس بھی تیار ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یورپین رہنماؤں پر الزام عائد کیا ہے کہ پہلے یورپی لیڈرز یوکرین کے حوالے سے مذاکرات سے الگ تھلگ رہے اور اب وہ یوکرین پر ہونے والے والے ممکنہ معاہدے کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
روسی صدر نے یہ بات امریکی نمائندہ خصوصی سے ہونے والی ملاقات سے قبل کہی۔انہوں نے کہا کہ ’میں سیکڑوں دفعہ پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ہمارا یورپ کے خلاف جنگ کا کوئی ارادہ نہیں، لیکن اگر یورپی رہنما یہی چاہتے ہیں تو ہم جنگ کے لیے تیار ہیں‘۔روسی صدر نے مزید کہا کہ اگر یورپین حکومتیں سفارتکاری کی جانب واپس لوٹتے ہوئے مذاکرات کا حصہ بنتی ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں کیوں کہ ان کو اس سے زمینی صورتحال کا درست اندازہ ہوسکے گا۔
امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف کی کریملن میں پیوٹن سے طویل ملاقات، دونوں رہنماؤں کے درمیان یوکرین روس تنازع کے خاتمے کے ممکنہ طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیاامریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کریملن میں روسی صدر پیوٹن سے تین گھنٹے طویل ملاقات کی۔ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان یوکرین روس تنازع کے خاتمے کے ممکنہ طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔امریکی صدر ٹرمپ کے داماد جیئرڈ کشنر بھی ملاقات میں موجود تھے۔