محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ جب پھر بھی اکثریت پوری نہ ہوئی تو ”تھوک کے حساب“ سے اپوزیشن ارکان کو عدالتی فیصلوں کے ذریعے نااہل کرا کے نشستیں جعلی حکومت کی جھولی میں ڈال دی گئیں۔ ایسے پارلیمنٹ کی نمائندہ حیثیت کہاں سے آئی؟ اور جب ہم یہ سوال اٹھاتے ہیں تو حوالدار اسپیکر ناراض ہو جاتا ہے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عدالتیں بھی اب انصاف دینے سے قاصر ہیں۔ ہمیں حق و باطل پارلیمنٹ اور عدالت میں فرق سمجھ کر عوام کو آگاہ کرنا ہوگا۔ اسی لیے تحریکِ تحفظ آئین پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ ظلم کے خلاف کھڑے ہوں گے، کیونکہ ظلم پر خاموشی خدا کی پکڑ کا باعث بنتی ہے۔ ہم ظلم کے سامنے سر جھکانے والے نہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر چار کروڑ آبادی والے خیبر پشتونخوا کے حقیقی مینڈیٹ کو پامال کرکے گورنر راج نافذ کیا گیا تو ”ہم سڑکوں پر عوامی راج قائم کریں گے“۔
محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ پشتون اور بلوچ خطہ وسائل سے مالا مال ہے، اسی لیے یہاں گڑبڑ کی جاتی ہے۔ ”آپ تیراہ اور وزیرستان میں بمباری کرکے شہریوں کو قتل کرتے ہیں اور پھر مذاکرات، مذاکرات کھیلتے ہیں۔“انہوں نے کہا کہ جہاں آئین و قانون کی حکمرانی ہو وہاں وردی تحفظ کی علامت ہوتی ہے، لیکن ہمارے ملک میں وردی خوف کی علامت بن چکی ہے۔ ہم امن کے داعی ہیں، جنگ وحشی جبلت کی علامت ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں حکمرانی اور وسائل کی تقسیم کا اختیار قومیتوں پشتون، بلوچ، سندھی، پنجابی اور سرائیکی کو ملنا چاہیے۔ وسائل پر طاقتوروں اور اشرافیہ نے قبضہ کر رکھا ہے جبکہ غریب کو مزدوری اور کاروبار سے بھی روکا جا رہا ہے، گوداموں اور شورومز پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ”بینظیر بھٹو کو کیوں قتل کیا گیا؟“ ہم نے ہمیشہ ہر آمر اور جابر کا مقابلہ کیا اور کرتے رہیں گے۔ جو نہ بکیں اور سچ کہیں انہیں غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔نواب ایاز خان جوگیزئی نے خطاب میں کہا کہ خان شہید اور محمود خان اچکزئی نے ہمیشہ آئین، جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کے لیے جدوجہد کی۔ ملک کی خارجہ پالیسی آزاد نہیں اور آئین کا وہی حصہ فعال رکھا گیا ہے جس سے ریاست کو گولی اور ڈنڈا چلانے کا اختیار ملتا ہے۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخونزادہ حسین یوسفزئی نے قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کے خلاف قرارداد اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی دھمکیوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پیر کے روز خیبر پشتونخوا اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کے حق میں قرارداد پیش کر کے منظور کی جائے گی۔
محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ عمران خان عوامی مزاحمت کا استعارہ اور مظلوموں کی آواز بن چکے ہیں، اسی بنیاد پر انہیں ناحق قید میں رکھا گیا ہے۔ ”ہم یہ ظلم نہیں بھولیں گے اور حساب لیں گے۔“بی این پی کے سینئر نائب صدر ساجد ترین نے خان شہید کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت اور قوم پرستی کی دعوے دار جماعتوں کے کارکنان کو 26 اور 27ویں ترمیم کی حمایت پر اپنے رہنماؤں سے سوال کرنا چاہیے۔جلسے سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما عبدالروف لالا، جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال،تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مرکزی ترجمان اخونذادہ حسین یوسفزئی، صوبائی صدر عبدالقہار خان، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر داود شاہ کاکڑ، عمران خان کے وکیل خالد چوہدری ایڈووکیٹ اور پاکستان بار کونسل کے رکن ایاز خان مندوخیل نے بھی خطاب کیا۔