حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔ہمت ہے تو خیبر پختونخواہ میں گورنر راج لگا کر دیکھائیں، صوبے میں کسی اور راج کی ضرورت نہیں،بند کمروں کی پالیسیاں خیبر پختونخوا میں نافذ کرنے والوں کو احساس کرنا چاہیے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے میں کسی اور راج کی ضرورت نہیں، اگر ہمت ہے تو گورنر راج لگا کر دیکھیں، ہم نہیں ڈرتے،بند کمروں کی پالیسیاں خیبر پختونخوا میں نافذ کرنے والوں کو احساس کرنا چاہیے۔
سہیل آفریدی نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ بند کمروں کی پالیسیاں خیبر پختونخوا میں نافذ کرنے والوں کو احساس کرنا چاہیے۔اس سے قبل ایک تقریب سے خطاب میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ وفاق کے ذمے ہمارے 3 ہزار ارب روپے سے زیادہ پیسے ہیں، ہمارے صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کیلئے آئندہ بھی مزید اقدامات کریں گے، ضم اضلاع میں خصوصی افراد کیلئے بھی بسوں کا بندوبست کیا جا رہا ہے، خصوصی افراد کیلئے ہم بسیس اور ویل چیئر دے رہے ہیں۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ہمارے لیڈر شوکت خانم ہسپتال بنا رہے تھے تو پوری پاکستانی قوم نے اپنا حصہ ڈالا، شوکت خانم ہسپتال میں کینسر کے مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے نے کہا کہ وفاق کے ذمے ہمارے 3 ہزار ارب روپے سے زیادہ پیسے ہیں، ہمارے صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، ہم اپنے وسائل سے غریب لوگوں کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 18 سال تک کے یتیم بچوں کو پیسے دیں گے، احساس امید کارڈ کے تحت یتیم بچوں کو ماہانہ 5 ہزار روپے دیتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا امکان مسترد کردیا۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ یہ سب چہ مگوئیاں ہیں، صوبہ گورنر راج کا متحمل نہیں ہوسکتا۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں مجھے گورنر راج لگتا دکھائی نہیں دے رہا، کوشش کریں گے خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کا خاتمہ ہو۔ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کل بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے اڈیالہ جائیں گے۔
وزیر مملکت قانون بیرسٹر عقیل کا گزشتہ روز کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے، صوبے کے موجودہ حالات اس اقدام کا تقاضا کر رہے ہیں، صوبے کے عوام کو کب تک بے یار و مددگار چھوڑا جاسکتا ہے؟ جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل کا کہنا تھا کہ رپورٹس کے مطابق صوبے کو بلاک کرنے کی منصوبہ بندی جاری ہے، وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم ناکام ثابت ہوئی ہے، گورنر راج دو ماہ کے لیے نافذ کیا جاسکتا ہے اور حالات کے مطابق اس میں توسیع بھی ممکن ہے۔