عمران خان سے ملاقات، اسپیکر نے یقینی دہانی کروائی ہے، لطیف کھوسہ

حال نیوز۔۔۔۔۔۔عمران خان سے ملاقات، اسپیکر نے یقینی دہانی کروائی ہے، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق فارم 47والے نہیں، ایاز صادق نے رانا ثنا اللہ کو کہا عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کچھ کیا جائے،یہ بھی کہا مذاکرات کاعمل شروع ہونا چاہیے، پھر نواز شریف نے احتساب کی بات چھیڑی ہے جنرل باجوہ کا احتساب کیا جائے، ہم ان کے مطالبے کے ساتھ ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما سردار لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ سپیکر ایاز صادق نے عمران خان سے ملاقات کی یقین دہانی کروائی ہے، ایاز صادق (ن)لیگ کے وہ واحد بندے ہیں جو فارم 47والے نہیں ہیں،سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ وہ ان کا احتساب کریں گے جو عمران خان کو لائے، وہ یہ بھی بتائیں کہ انہیں کون کون لایا، وہاں احتساب شروع کریں،اب پھر نواز شریف نے احتساب کی بات چھیڑی ہے کہ جنرل باجوہ کا احتساب کیا جائے، ہم ان کے اس مطالبے کے ساتھ ہیں، حکومت (ن)لیگ کی ہے،،ان کا مطالبہ کس سے ہے؟۔

سردار لطیف خان کھوسہ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ہماری سپیکر ایاز صادق سے ملاقات ہوئی، اس ملاقات میں پیپلزپارٹی کے نوید قمر، (ن) لیگ سے رانا ثنا اللہ اور طارق فضل چوہدری موجود تھے،ان کی موجودگی میں میں نے سپیکر کو کہا کہ آپ فارم 47والے نہیں ہیں جس کے بعد سپیکر سے عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے بات کی جس پر انہوں نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ ملاقات کروائیں گے۔لطیف کھوسہ نے بتایا کہ سپیکر ایاز صادق نے رانا ثنا اللہ کو کہا کہ اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے کچھ کیا جائے۔ سپیکر ایاز صادق نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات کاعمل شروع ہونا چاہیے، پاکستان تحریک انصاف اور (ن)لیگ کے لوگوں کی ہر ہفتے میٹنگ ہونی چاہیے، اسی سے راہ نکلے گی، انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ عمران خان سے ملاقاتوں کا مطالبہ سفارش کے طور پر رکھ لیں۔ اس ملاقات میں میں تھا، بیرسٹر گوہر تھے، سینیٹر علی ظفر بھی موجود تھے۔

سردار لطیف خان کھوسہ نے کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ کوئی راہ نکلے گی۔ انہوں نے کہاکہ میرا اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جب میں حلقہ این اے 122سے الیکشن جیتا تو خواجہ سعد رفیق مجھے مبارکباد دینے آئے،میں نے انہیں کہا یہ تہذیب اپنے لیڈروں کو بھی بتائیں کہ جب بندہ ہار جائے تو شکست قبول کر لینی چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں سردار لطیف خان نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ وہ ان کا احتساب کریں گے جو عمران خان کو لائے، وہ یہ بھی بتائیں کہ انہیں کون کون لایا، وہاں احتساب شروع کریں،اب پھر نواز شریف نے احتساب کی بات چھیڑی ہے کہ جنرل باجوہ کا احتساب کیا جائے، ہم ان کے اس مطالبے کے ساتھ ہیں۔ حکومت (ن)لیگ کی ہے، وزیراعظم شہبازشریف اور وزیراعلی مریم نواز ہیں ان کا مطالبہ کس سے ہے؟۔

سردار لطیف خان کھوسہ نے کہا کہ یہ کبھی بھی جنرل باجوہ کا احتساب نہیں کریں گے کیونکہ انہیں آرمی چیف لانے والا نواز شریف تھا،یہ سب لندن پلان کا حصہ تھا، جب پی ٹی آئی نے جنرل قمر باجوہ کو ایکسٹینشن دی تو جنرل باجوہ اور نواز شریف کے درمیان ڈیل ہوئی تھی۔انہوں نے کہاکہ حال ہی میں جو ضمنی الیکشن ہوئے وہ کوئی ریفرنڈم نہیں تھے بلکہ ایک فراڈ الیکشن تھے، پاکستان تحریک انصاف کو جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، دفعہ 144کا اطلاق تھا،اگر یہ ریفرنڈم تھا تو انہیں جلسہ کرنے کی اجازت دے دی جاتی،پتا چل جاتا،ہری پور اور لاہور والی سیٹوں پر دھاندلی کر کے جیتا گیا ہے، ڈی جی خان میں دوست کھوسہ کو ہروایا گیا ہے۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ جیسے (ن) لیگ کا لیڈر نواز شریف ہے ویسے ہی ہمارا لیڈر عمران خان ہے،باقی پارٹیوں کے اندر معاملات چلتے رہتے ہیں، عہدے آتے جاتے رہتے ہیں، پی ٹی آئی میں قیادت کا کوئی فقدان نہیں ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.