عطاء تارڑ کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا 11 نومبر کو اسلام آباد میں کچہری خودکش حملے میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ خودکش حملہ آور ہائی سیکور جگہ پر نہیں پہنچ سکے،اسلام آباد کے مضافات میں پہلی جگہ ملی جسے خود کش حملہ آور نے ٹارگٹ کیا۔ ان کا کہنا تھا انٹیلی جنس بیورو اور سی ٹی ڈی نے حملے کے فوری بعد چار ملزمان کو گرفتار کیا۔ حملے کے 48 گھنٹے کے اندر ساجد اللہ عرف شینا، کامران خان، محمد ذالی اور شاہ منیر کو گرفتار کیا گیا۔ ہینڈل ساجد اللہ عرف شینا خودکش حملہ آور اور جیکٹ کو لے کر آیا۔ ساجد اللہ نے 2015ء میں تحریک طالبان افغانستان میں شمولیت اختیار کی۔ اس نے افغانستان کے اندر مختلف ٹریننگ کیمپس میں تربیت حاصل کی، 2023ء میں ساجد اللہ نے داد اللہ نامی شخص سے ملاقات کی۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا کہنا تھا حملے کی منصوبہ بندی فتنہ الخوارج اور ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود نے اپنے کمانڈر داد اللہ کے ذریعے کی۔ داد اللہ اس وقت افغانستان میں موجود ہے۔ انہوں ے کہا ساجد اللہ عرف شینا نے اگست 2025ء میں داد اللہ سے افغانستان جا کر ملاقات کی۔ دونوں ایک ایپ کے ذریعے آپس میں رابطے میں رہے۔ دہشت گردوں کا ٹارگٹ جڑواں شہر تھے۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ہم بڑے نقصان سے بچ گئے۔ ان کا کہنا تھا ساجد اللہ عرف شینا نے افغانستان جا کر داد اللہ سے ملاقات کر کے خودکش حملے کی پلاننگ کی۔ ساجد اللہ نے محمد ذالی اور کامران خان کو ہائر کیا۔ اگست 2025ء میں ساجد اللہ شینا اور محمد ذالی داد اللہ سے ملاقات کیلئے افغانستان اکٹھے گئے۔ فتنہ الخوارج کے دہشت گرد ضلع شیگل میں عبداللہ جان عرف ابو حمزہ سے بھی ملے۔
عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ دہشتگرد شیگل سے یہ کابل پہنچے اور وہاں داد اللہ سے ملاقات ہوئی۔ داد اللہ نے انہیں راولپنڈی اسلام آباد میں خودکش حملے کے حوالے سے نور ولی محسود کے احکامات پہنچائے۔ ساجد اللہ عرف شینا نے پاکستان کے اندر واپس آ کر خودکش حملہ آور عثمان شنواری سے ملاقات کی۔ عثمان شنواری ننگر ہار افغانستان کا رہائشی ہے۔ عثمان شنواری کو خودکش جیکٹ لا کر دی گئی اور اسے تمام مواد فراہم کیا اور اس نے جی الیون میں خودکش حملہ کیا، ان کا کہنا تھا دہشت گرد بڑا نقصان کرنا چاہتے تھے لیکن یہ اس میں ناکام رہے۔ اور اپنے ٹارگٹ تک نہیں پہنچ سکے۔
عطاء تارڑ کا کہنا تھا ساجد اللہ عرف شینا مرکزی ملزم ہے، یہ تحریک طالبان کا رکن رہا ہے، پریس کانفرنس کے دوران ساجد اللہ عرف شینا کا اعترافی بیان بھی دکھایا گیا۔ ان کا کہنا تھا خودکش حملہ آور افغانستان کا رہائشی ہے،پکڑے گئے دہشت گردوں کا اس خودکش حملے میں کسی نہ کسی طرح حصہ تھا۔ان کا کہنا تھا حملے کے تمام تر تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔ آج اس دہشتگردی کے تمام ترحقائق عوام کے سامنے رکھ دئیے ہیں۔ ہماری سیکورٹی ایجنسیاں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور پاک فوج پوری طرح الرٹ ہیں۔ یہ ایک بڑی کامیابی ہے، اس سے دہشت گردی کے خاتمے میں بہت مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا شہریوں کی حفاظت کے لئے ہم تمام تر اقدامات اٹھائیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا شہریوں کے تحفظ پر بہت بڑا فوکس ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج مکمل طور پر متحرک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے انٹیلی جنس بیورو اور سی ٹی ڈی کی کامیابی کو سراہا ہے۔