ستائیسویں ترمیم مسترد، منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمن

 کے حوالے سے قانون سازی ہوئی ہے ان کا کہنا تھا کہ 18سال سے کم عمر کو کس مکتبہ فکر میں نابالغ کہا جاتا ہے اور پھر قانون کو یہاں تک سخت کرنا کہ اگر 18سال سے پہلے شادی یا نکاح ہوا تو اس کو جنسی زیادتی اور زنا بالجبر سے تعبیر کرکے اس کی سزا دی جائے گی۔

مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ مشرف کے دور میں ایک قانون لایا گیا جس میں زنا کے مرتکب کو سہولت دینے کا قانون منظور کیا گیا اس میں بھی پاکستان پیپلز پارٹی نے ووٹ دیا تھا اور آج بھی جائز نکاح کی راہ میں قدغنیں لگائی جارہی ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر 18سال سے کم عمر نکاح کو زیادگی اور جنسی زیادتی کہا جائے گا اور اگر اولاد پیدا ہوتو اس کو جائز تصور کیا جائے گا اور والد کو نان نفقہ دینے کا پابند بنایا جائے گا ان کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان پارلیمنٹ کو پابند کرتا ہے کہ قانون و سنت کے مطابق قانون سازی ہوگی اور اس کے منافی قانون سازی نہیں ہوگی اور اسلام کو پاکستان کا مذہب اور اللہ پاک کو حاکم مطلق مانتا ہے اور مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر قرآن و سنت کے مطابق ترتیب دے سکیں گے اور یہ آئین کا حصہ ہے لیکن ہمارے ان قوانین کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے کے تحت ہم قانون سازی کررہے ہیں اسی کو غلامی کہتے ہیں اب ترقی پزیر ممالک کو غلام بنانے کیلئے سیاسی،دفاعی اور اقتصادی معاہدوں میں عالمی قوانین کی پالیسیوں پر عمل درآمد کروایا جاتا ہے اور پاکستان کے حکمران بڑی خوشی سے اس غلامی کو تسلیم کرتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ہم نے تین سو سال تک انگریزوں کی غلامی کے خلاف جنگ لڑی ہے ہم کسی صورت بھی اسی طرح کی غلامی کو تسلیم نہیں کریں گے ان کا کہنا تھا کہ اپنی مرضی سے اپنی جنسی شناخت کو تسلیم کرنابھی مغرب کی تقلید ہے ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن سے اس حد تک جانے کی توقع نہیں تھی ہم تو سمجھے تھے کہ یہ وہ مسلم لیگ نہیں جو انگریز کی وفادار تھی لیکن ان کے اندر آج بھی غلامی کے جراثیم زندہ ہیں اور یہ آج ہم دیکھ رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن کے قانون پر ابھی تک کوئی عمل درآمد نہیں ہورہا ہے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو پارلیمنٹ میں پیش کرکے زیر لانے پر بھی عمل درآمد نہیں کیا جارہا ہے یہ حکمران منافقت کر رہے ہیں حکمرانوں پر آئین کی پیروی بہت لازمی ہے ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں اتحاد مدارس دینیہ اور وفاقی المدارس سمیت تمام مکاتب فکر سے رابطے کر رہے ہیں اور اس حوالے سے سمینار سمیت احتجاج سلسلہ شروع کیا جائے گا ان کا کہنا تھا کہ جس چیز کو ایک خاص شخص کیلئے مراعات تصور کیا جائے اس سے ملک کو محفوظ رکھنا چاہیے ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی فوج کا حترام کرتے ہیں ہمیں حافظ صاحب کی کارکردگی سے کوئی جھگڑا نہیں ہے مگر ملک میں ایسی نئی روایات نہ ڈالی جائے جس سے شہریوں کے اندر تفریق نظر آئے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.