ہماری جنگ افغان عوام کے نہیں دہشتگردوں کیخلاف ہے، پاک فوج

حال نیوز۔۔۔۔۔۔۔ہماری جنگ افغان عوام کے نہیں دہشتگردوں کیخلاف ہے، پاکستان افغانستان کے خلاف ہمیشہ اعلانیہ کارروائی کرتا ہے، چوبیس نومبر کی شب کابل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، دہشتگردوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی تک افغان رجیم کے ساتھ مذاکرات ہر گز ممکن نہیں، فیض حمید کے کورٹ مارشل کے معاملے پر قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے جب بھی کوئی عملدرآمد ہو گا یا فیصلہ ہو گا، سب کے سامنے لائیں گے۔ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے افغانستان کے خلاف پیر کی شب کسی بھی قسم کی کارروائی کو مسترد کرتے ہوے کہا ہے کہ پاکستان کابل کے خلاف ہمیشہ اعلانیہ کارروائی کرتا ہے۔ ہماری جنگ دہشتگردی کے خلاف ہے،افغان عوام کے خلاف نہیں، دہشتگردوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی تک افغان رجیم کے ساتھ مذاکرات ہر گز ممکن نہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ فیض حمید کے کورٹ مارشل کے معاملے پر قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے جب بھی کوئی عملدرآمد ہو گا یا فیصلہ ہو گا، سب کے سامنے لائیں گے۔ سینئر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان نے افغان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوے کہا کہ چوبیس نو مبر کی شب پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی پاکستان جب بھی کارروائی کرتا ہے اس کا باقاعدہ اعلان کرتا ہے۔ ہماری جنگ افغان عوام سے نہیں دہشتگردی کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا افغانستان رجیم سے ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کی جائے۔ جب تک افغان حکومت دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی نہیں کرتی، بات چیت نہیں ہو گی۔

ترجمان نے کہا سرحد پار سے دہشت گردی کی معاونت سب سے بڑا مسئلہ ہیں۔ پاک افغان بارڈر پر اسملنگ اور پولیٹیکل کرائم کا نیکس توڑنے کی ضرورت ہے۔ بیرون ممالک سے چلائے جانے والے سوشل میڈیا اکاونٹس ریاست کے خلاف بیانیہ بنا رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا ہمارا مسئلہ افغان عبوری حکومت سے ہے افغانستان کے لوگوں سے نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف ایک مربوط جنگ لڑنے کے لیے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہو گا۔ دہشتگردوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی تک افغان رجیم سے مذاکرات ممکن نہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عوام اور افواج دہشت گردوں کے خلاف متحد ہیں۔ دہشت گردوں کا آخری دم تک پیچھا کیا جائے گا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے،کورٹ مارشل پر قیاس آرائیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ کورٹ مارشل کے معاملے پر قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔ جیسے ہی عملدرآمد ہوگا اس پر کوئی فیصلہ آئیگا ہم آگاہ کریں گے۔ ترجمان نے کہا ہماری نظر میں کوئی گڈاور بیڈ طالبان نہیں ہے۔ ہم دہشتگردوں میں کوئی تفریق نہیں کرتے۔ ترجمان نے کہا افغانستان سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں امریکی چھوڑا گیا اسلحہ استعمال ہو رہا ہے۔ افغانستان سے وادی تیرہ سے در اندازی کی جاتی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت دہشتگردوں کے خلاف موثر کارروائی کرے۔ خون اور تجارت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ دو ہزار اکیس سے دوہزار پچیس تک ہم نے افغان حکومت کو بار بار انگیج کیا۔ تاہم افغان حکومت سرحد ی امور کے حل میں ناکام رہی ترجمان نے کہا چار نومبر کے بعد سے اب تک دو سو چھ دہشتگردا مارے گئے۔ کے پی کے اور بلوچستان میں چار ہزار نو سو دس آپریشن کئے گئے۔ خود کش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں۔ طالبان حکومت نان اسٹیٹ ایکٹرز کی طرح فیصلہ نہ کرے۔ کب تک افغان حکومت عبوری رہے گی، افغان حکومت کو ان مسائل کے حل کے لئے زمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.