چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت بانی پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ آفس کو پتہ نہیں مجھ سے کیا ضد ہے، میرا نام لسٹ میں کیوں نہیں آتا؟ جس پر چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے کہا کہ آپ کو پتہ نہیں عدالت سے کیا ضد ہے جو پریس میں عدالت کی غلط خبریں دیتے ہیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں نے تو کوئی غلط خبر نہیں دی۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ یہ جو آپ کے ساتھ انتظار پنجوتھا کھڑے ہیں ان سے پوچھیں، گزشتہ سماعت پر کیس کال کیا گیا مگر کوئی وکیل موجود نہیں تھا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ باہر جا کر کہا گیا کہ عدالت ہمیں بتائے بغیر کیس لگا دیتی ہے، یہ روسٹرم جب خالی ہوتا ہے تب نظر آتا ہے، ہم چہرہ دیکھ کر تو کیس سنتے ہی نہیں، جتنا ریلیف میری عدالت سے آپ کو ملا شائد کسی عدالت سے ملا ہو، کہا گیا کہ ہڑتال تھی مگر میری عدالت میں تو کیس لگے تھے۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہڑتال بھی ہم عدالت کی عزت کے لیے کرتے ہیں، اپنے لیے نہیں کرتے، میں اس کیس میں سینئر وکیل ہوں مگر لسٹ میں میرا نام نہیں آیا۔چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے کہا کہ ابھی تک کوئی ایسا فلٹر نہیں آیا جس سے کسی وکیل کا نام نکالا جاسکے۔
وکیل انتظار پنجوتھا نے کہا کہ آفس سے ہمیں بتایا گیا کہ کیس نہیں لگا جس پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ کیا آپ نے اپنی درخواست میں یہ چیزیں لکھی ہیں، جب کوئی غلط بات کرے تو اسے تسلیم بھی کرنا چاہیے۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ سے درخواست ہے کہ اتنی ٹیکنیکلیٹی میں نہ پڑیں، وکیل صاحب آپ سے معذرت کر رہے ہیں۔چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے وکیل انتظار پنجوتھا کو ہدایت دی کہ آپ پیچھے بیٹھیں سردار صاحب کو آگے آنے دیں، میری عدالت میں اتنے وکیل نہ آیا کریں، ایک ہی وکیل کافی ہوتا ہے۔