تیجس کی تباہی کے بعد بھارت کا ایکسپورٹ کا خواب چکنا چور ہو گیا

حال نیوز۔۔۔۔۔تیجس کی تباہی کے بعد بھارت کا ایکسپورٹ کا خواب چکنا چور ہو گیا، دبئی ایئر شو میں حادثہ ایسے موقع پر پیش آیا جب طیارے کو غیر ملکی منڈیوں میں فروخت کے لیے پیش کیا جانا تھا۔دنیا بھر کے اسلحہ خریداروں کی موجودگی میں دبئی ایئر شو کے دوران تیجس فائٹر طیارے کی تباہی نے بھارت کی دفاعی تجارت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ یہ حادثہ ایسے موقع پر پیش آیا جب طیارے کو غیر ملکی منڈیوں میں فروخت کے لیے پیش کیا جانا تھا۔اس حادثے کی وجہ فوری طور پر سامنے نہیں آ سکی، تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ بھارت کے اس طیارے کی بین الاقوامی مقبولیت کو متاثر کرے گا۔

تیجس پروگرام کا آغاز 1980کی دہائی میں ہوا تھا تاکہ بھارت اپنے پرانے سوویت ساختہ مگ-21طیاروں کی جگہ جدید فائٹر بیڑے میں شامل کر سکے۔ موجودہ وقت میں ہندوستان ایرو اسپیسز لمیٹڈ کے پاس 180جدید ایم کے-1اے طیارے کے آرڈر موجود ہیں، لیکن امریکی جنرل الیکٹرک ایئروسپیس سے انجن کی سپلائی میں مسائل کی وجہ سے ابھی تک ڈلیوری شروع نہیں ہو سکی۔ ہندوستان ایرو اسپیسز لمیٹڈ کے ایک سابق اہلکار کے مطابق دبئی میں ہوئے اس کریش نے طیارے کی برآمدات کے امکانات کو فی الحال ختم کر دیا ہے۔

تیجس کو ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں فروخت کے لیے پیش کیا جا رہا تھا، اور ایچ اے ایل نے 2023میں ملائیشیا میں دفتر بھی کھولا تھا۔ تاہم سابق اہلکار کے مطابق آئندہ چند سالوں میں فوکس ملکی استعمال کے لیے پیداوار بڑھانے پر ہوگا۔گ-29، انگلو-فرینچ جیگوار اور فرانس کے میراج 2000بھی جلد ریٹائر ہونے والے ہیں۔ تیجس کو ان کی جگہ لینا تھا، لیکن پیداوار کے مسائل کی وجہ سے اس پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔ بھارت نے فوری ضرورت کے لیے آف-دی-شیلف خریداری پر بھی غور شروع کر دیا ہے، جس میں مزید رافیل طیارے شامل ہو سکتے ہیں۔

دبئی ایئر شو میں پاکستان بھی موجود تھا اور اس نے اپنے جے ایف-17تھنڈر بلاک تھری فائٹر کی نمائش کی، جسے چین کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے۔ پاکستان نے ایونٹ میں اس طیارے کو بیٹل ٹیسٹڈ کے طور پر متعارف کروایا، جبکہ طیارے میں پی ایل-15ای میزائل بھی دکھائے گئے، جو مئی میں بھارت کے رافیل طیارے مار گرائے جانے میں اہم کردار ادا کرنیوالے میزائل کے طور پر پیش کیے گئے۔ بھارتی حکام کے مطابق مئی میں ہونیوالی چار روزہ لڑائی میں تیجس طیارے کو براہ راست استعمال نہیں کیا گیا، اور اس سال جنوری میں ریپبلک ڈے کے دوران بھی حفاظتی وجوہات کے باعث یہ طیارہ مظاہرے میں شامل نہیں ہوا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.