حال نیوز۔۔۔۔۔بلوچستان میں کہیں بھی حکومتی رٹ قائم نہیں، حکومت کی رٹ صرف ریڈ زون تک محدود ہے، میڈیا صرف سوپ اور یخنی دکھاتا ہے، بلوچستان کاخون اور مسائل کی خبر نہیں آتی ہیں، 27ویں آئینی ترمیم کے بعد ملک میں سیاست، عدالت اور صحافت کھوچ کرگئے، تمام سیاسی جماعتوں کو نئی آئین ساز اسمبلی کے قیام کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے، 1973کا آئین اب اپنا وجود کھو چکا ہے اور بلوچستان میں حقیقی معنوں میں مارشل لا نافذ ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ حکومت کی رٹ صرف ریڈ زون تک محدود ہے میڈیا صرف سوپ اور یخنی دکھاتا ہے، بلوچستان کاخون اور مسائل کی خبر نہیں آتی ہیں 27ویں آئینی ترمیم کے بعد ملک میں سیاست، عدالت اور صحافت کھوچ کرگئے تمام سیاسی جماعتوں کو نئی آئین ساز اسمبلی کے قیام کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔
سردار اختر مینگل نے نے نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ1973کا آئین اب اپنا وجود کھو چکا ہے اور بلوچستان میں حقیقی معنوں میں مارشل لا نافذ ہے بلوچستان حکومت نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے کہ چار دن تک قومی شاہراہیں بند رہیں گی، جبکہ خضدار میں چھ ماہ سے انٹرنیٹ سروس بند ہے۔ چار دن قبل بھی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ پورے بلوچستان میں انٹرنیٹ چار دن کیلئے بند رہے گاحکومت کی رٹ صرف ریڈ زون تک محدود ہے جبکہ بلوچستان بھر میں روزانہ عسکریت پسند آتے ہیں اور تھانوں سے اسلحہ لے جاتے ہیں۔ سابق وزیراعلی کے علاقے زہری میں دو ماہ تک سیکورٹی فورسز کا کنٹرول رہا، مگر کارروائیاں عوام کے خلاف ہوتی ہیں، ان کی خوراک تک بند کر دی جاتی ہے ریاست کہاں ہے؟ بلوچستان میں ریاست نے میجر نما وزیر اعلی بنایا ہے۔
سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ آج کوئی وزیر اپنے انتخابی حلقے میں بھی نہیں جا سکتابلوچستان میں 26، 27اور 28ترامیم لائی جائیں تو بھی نوجوانوں کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی کیونکہ اصل مسائل حکمرانوں کی نااہلی اور ریاستی رویے سے جڑے ہوئے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم میں جو جماعتیں شامل تھیں، وہ آج ملک کی موجودہ صورتحال کی ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ پارٹی نے قاسم رونجو اور نسمیہ احسان کی بنیادی رکنیت ختم کر دی ہے، جبکہ قاسم رونجو کے بیٹے کو بلوچستان سے بلامقابلہ سینیٹر بنایا گیا، جو سیاسی و آئینی سوالات کو جنم دیتا ہے۔27ویں آئینی ترمیم کے بعد ملک میں سیاست، عدالت اور صحافت کا وجود کمزور ہو کر رہ گیا ہے۔ اس ملک میں اب کچھ بھی آزاد نہیں، صحافیوں سے قلم چھین کر کینٹ کا قلم تھما دیا گیا ہے اور عملی طور پر جنگل کا قانون نافذ ہے۔
سربراہ بی این پی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں پارٹی جلسوں کی اجازت نہیں دی جاتی، اور جیسے ہی احتجاج کی کال دی جاتی ہے، انتظامیہ فورا دفعہ 144نافذ کر دیتی ہے اگر عوام حکومتی پابندیوں کو نہ مانیں تو ان پر خودکش حملے بھیج دیے جاتے ہیں، جو بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے ملک میں سیاست نہیں بلکہ کاروبار چل رہا ہے، اور تمام آئینی ترامیم عوامی مفادات کے برعکس ہوتی ہیں، کیونکہ انہیں ہمیشہ کسی فردِ واحد کے فائدے کے لیے لایا جاتا ہے۔اختر مینگل نے واضح طور پر کہا کہ 1973کا آئین اب نہیں رہا، یہ صرف ایک ڈھانچہ سا رہ گیا ہے، اس کے اندر کوئی روح نہیں بچی۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کو نئی آئین ساز اسمبلی کے قیام کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے، ورنہ ملک کو چلانا ممکن نہیں رہے گا۔
اختر مینگل کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں پارٹی پر دبا ڈالنے کی منظم کوشش کی گئی اور ان کے دو سینیٹرز کو اٹھایا گیا۔ ا اگر یہ بات بلوچستان، کوئٹہ یا ان کے گاوں کی ہوتی تو الزام درست سمجھا جا سکتا تھا لیکن اسلام آباد جہاں بڑے بڑے ہاوسز اور سیف ہاسز موجود ہیں، وہاں کسی پر ان کی جانب سے دبا ڈالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتایہاں کہا جاتا ہے کہ میں نے چور کو نہیں پکڑا بلکہ چور نے مجھے پکڑا۔ اسلام آباد جیسے شہر میں، جہاں ریاستی ادارے اور طاقتور ہاسز موجود ہیں، میرا کسی پر دبا ڈالنا ممکن ہی نہیں انہوں نے کہا ہے کہ تیس ستمبر کو استعفی دیا اور فورا بعد بیرونِ ملک دبئی چلے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت پاکستان واپس آئے جب 26ویں آئینی ترمیم کا جشن منانے کی کوششیں جاری تھیں اسلام آباداپارٹمنٹ اس لیے خالی کیا کہ خدشہ تھا کہیں کوئی قبضہ نہ کر لے یا خدا نخواستہ کوئی برآمدگی ڈال کر معاملے کو تبدیل نہ کر دیا جائے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی مخالفین کے خلاف ایسے ہتھکنڈے ماضی میں بھی استعمال ہوتے رہے ہیں، جیسے رانا ثنا اللہ کی گاڑی میں برآمدگی دکھائی گئی تھی بلوچستان کے مسائل میڈیا میں مناسب انداز میں پیش نہیں کیے جا رہے۔ انہوں نے کہا کہ رات کو ایک نیوز چینل پر صرف یہی دکھایا گیا کہ سردی کا موسم پہنچ چکا ہے اور لوگ کوئٹہ میں یخنی اور سوپ پی رہے ہیں۔ اختر مینگل نے کہا، اگر وہ خون جو لوگ پی رہے ہیں اس کی بھی خبر آتی تو معاملہ ایکول ہو جاتامیرااستعفی 24ستمبر کو دیا گیا تھا مگر ایک سال سے زیادہ عرصے کے باوجود ابھی تک قبول نہیں ہوا۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ کیوں نہیں ہو رہا،بلوچستان کی حقیقی صورتحال اور عوام کی مشکلات کو میڈیا میں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام تک صحیح معلومات پہنچیں اور سیاسی شفافیت قائم ہو۔