پاکستان میں بدعنوانی تاحال ایک سنگین چیلنج ہے، آئی ایم ایف

حال نیوز۔۔۔۔۔۔پاکستان میں بدعنوانی تاحال ایک سنگین چیلنج ہے، پاکستان میں کرپشن مستقل چیلنج، ترقی پر سنگین منفی اثرات مرتب کر رہی ہے‘ سوشل میڈیا کا استعمال بڑھنے سے نوجوان سیاسی طور پر زیادہ فعال‘نوجوان آبادی حکومت اور اداروں بارے زیادہ شک اور کم یقین رکھتی، ملک میں بدعنوانی تاحال ایک سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے جو معاشی سرگرمیوں اور ادارہ جاتی کارکردگی کو متاثر کر رہی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے قرض پروگرام کی شرط کے طور پر پاکستان کے لیے گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں بدعنوانی تاحال ایک سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے جو معاشی سرگرمیوں اور ادارہ جاتی کارکردگی کو متاثر کر رہی ہے۔

کرپشن کے باعث ریاستی اداروں کا کنٹرول کمزور ہوتا ہے جبکہ ٹیکسوں کا درست اور شفاف استعمال یقینی نہیں ہو پاتا جس کے نتیجے میں مجموعی ٹیکس آمدن متاثر ہوتی ہے، بدعنوانی کے سبب قانونی نظام پر عوام کا اعتماد بھی شدید متاثر ہوتا ہے۔آئی ایم ایف نے نشاندہی کی کہ بدعنوانی سرکاری کمپنیوں کو خسارے کی طرف دھکیلتی ہے جبکہ پیچیدہ اور ضرورت سے زیادہ ریگولیشنز معیشت کی رفتار کو جکڑ دیتی ہیں، ٹیکس اور کسٹم اہلکار اپنی صلاحیت کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا پاتے جس سے نظامی کمزوری بڑھتی ہے۔

آئی ایم ایف نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان میں ضرورت سے زیادہ ریگولیشن اور رکاوٹیں ہر شعبے کی ترقی کو متاثر کر رہی ہیں، اکثر معاملات مشاورت یا انتظامی سطح پر حل ہونے کے بجائے عدالتوں کا رخ کر لیتے ہیں جہاں بے تحاشہ زیر التوا مقدمات کے باعث فیصلے تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس کا براہِ راست اثر معاشی سرگرمیوں اور کاروباری ماحول پر پڑتا ہے۔آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نظامی اصلاحات، شفافیت کے فروغ اور موثر حکمرانی پاکستان کی معاشی بہتری کے لیے ناگزیر ہیں۔

آئی ایم ایف گورننس رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے اور پاکستان میں آبادی کا بڑا حصہ شہروں کی طرف تیزی سے منتقل ہونے لگا۔آئی ایم ایف کی پاکستان میں گورننس بارے رپورٹ میں غیر معمولی حقائق شامل کئے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کا استعمال بڑھنے سے نوجوان سیاسی طور پر زیادہ فعال ہیں۔نوجوان آبادی حکومت اور اداروں بارے زیادہ شک اور کم یقین رکھتی،پاکستان کی نئی نسل میں ووٹ ڈالنے میں دلچسپی بڑھ رہی ہے،بدلتی آبادیاتی صورتحال سروس ڈیلیوری پر دباؤ بڑھا رہی ہے،لوگ اب دیکھ رہے کہ خدمات کیسے اور کس کو فراہم کی جا رہی ہیں،سیاست دان مانتے ہیں کہ کرپشن کے خاتمے سے بہتر سروس ڈیلیوری ممکن ہے،عوامی توقعات میں اضافہ جبکہ کرپشن برداشت کرنے کا رجحان کم ہوتا جا رہا۔

شوگر سیکٹر میں ایلیٹ اشرافیہ اور حکومتی ریگولیٹرز کے گٹھ جوڑ کا انکشاف ہوا ہے۔حکومتی پالیسیاں، سبسڈیز، ریگولیٹری رعایتیں شوگر سیکٹر کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے، آئی ایم ایف کی گورننس اینڈ کرپشن ڈائگنوسٹک اسسمنٹ رپورٹ میں شوگر سیکٹر بارے تفصیلات شامل کی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ شوگر مل مالکان کی ’ری کمنڈڈ‘ گنے کی قیمتوں اور حفاظتی ڈیوٹیز پر مضبوط گرفت ہے،غیر مسابقتی پالیسیوں سے شوگر ملز کو منافع جبکہ عوام پر بوجھ ڈالا گیا،مل مالکان نے ایکسپورٹس اور پرائسنگ پالیسیوں کو بھی اپنے حق میں ڈھال رکھا،2018-19 میں حکومتی فیصلے سے شوگر ایکسپورٹ اور سبسڈی دی گئی،زائد ایکسپورٹ سے ملک چینی کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.