حال نیوز۔۔۔۔۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کا 27ویں ترمیم کیخلاف یوم سیاہ منانے کا اعلان،27ویں ترمیم نے قانون کو غیر مؤثر کر دیا،ہمارا قانون ہر اس چیز کی مخالفت کرتا ہے جو اسلام کے خلاف ہو، 27ویں آئینی ترامیم کے خلاف قومی کانفرنس بلا ینگے، ملک بھر میں جمعہ کو یومِ سیاہ کے طور پر منایا جائے گاپرامن عوامی احتجاج کیا جائے گا، عوامی طاقت کے ذریعے حکومت کو گھر بھیجے گی نئے جمہوری پاکستان کی بنیاد رکھی جائے گی۔ تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے سربراہ اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ27ویں آئینی ترامیم کے خلاف قومی کانفرنس بلا ینگے تحریک تحفظ آئین پاکستان پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے جمعہ پورے ملک میں یومِ سیاہ کے طور پر منایا جائے گاپرامن عوامی احتجاج کیا جائے گا عوامی طاقت کے ذریعے حکومت کو گھر بھیجے گی نئے جمہوری پاکستان کی بنیاد رکھی جائے گی۔
ستائیسوں ترمیم کیخلاف اپوزیشن اراکین اسمبلی کا پارلیمنٹ ہاؤس سے سپریم کورٹ تک احتجاجی مارچ سے خطاب میں ان خیالات کا اظہار انہوں نے کیا گیا اس موقع پرمجلس وحدت المسلمین کے سربراہ اور ٹی ٹی اے پی کے وائس چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس، پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا، اور سابق قومی اسمبلی اسپیکر اسد قیصر شامل تھے محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف ملک بھر کے دانشوروں، ماہرینِ قانون، صحافیوں اور سیاسی شخصیات سے مشاورت کے بعد قومی کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں ججز، صحافی، دانشور اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ شریک ہوں گے۔انہوں کا کہنا تھا کہ تین روز قبل پارلیمنٹ میں جو کارروائی ہوئی وہ آئین اور اسلام دونوں کے منافی ہے۔
محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ہمارا آئین واضح کہتا ہے کہ پاکستان میں اسلام کے خلاف کوئی قانون نہیں بن سکتا، اور قرآن حکیم میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اس کے سوا ہر شخص کا احتساب ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ بڑے بڑے انبیائے کرام تک کو استثنا نہیں ملا، مگر یہاں آرمی چیف اور صدر کو مکمل استثنا دینے کی کوششیں آئین پر حملے کے مترادف ہیں۔موجودہ حکومت قاتلوں اور دہشت گردوں کی پشت پناہ ہے، 25کروڑ عوام کو خوف زدہ کر کے اقتدار حاصل کیا گیا اور عمران خان کی جماعت کا مینڈیٹ چھینا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کی نشستیں خیرات کی طرح بانٹی گئیں، جس سے آئین کی بنیادوں کو کمزور کیا گیاپارلیمنٹ ہو یا دیگر ادارے، آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کا کسی کو حق نہیں۔
سربراہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے اب مزاحمت نہ کی تو آگے چل کر ایسے عناصر پیدا ہوں گے جو نئی آئین ساز اسمبلی کا اعلان کر کے موجودہ آئین کو پھاڑ کر پھینک دیں گے، جس سے ملک ایک بڑے آئینی بحران کا شکار ہوگاآئین کو تباہ کیا گیا ہے اور ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ اس سماجی معاہدے کے دفاع کیلئے کھڑا ہو جائے، ورنہ دیر ہو گئی تو نقصان ناقابلِ تلافی ہوگاانہوں نے کہا ہے کہ آئندہ جمعہ پورے ملک میں یومِ سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے اور جمعے کی نمازوں کے بعد پرامن عوامی احتجاج کیا جائے گا۔
محمود خان اچکزئی نے خیبرپختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سرکاری سطح پر سیاہ جھنڈیوں اور یومِ سیاہ کے انتظامات کو یقینی بنائے یہ جدوجہد کسی شخصیت یا سیاسی جماعت کے لیے نہیں بلکہ آئینِ پاکستان، ایمان اور قرآن کے تقدس کے تحفظ کے لیے ہے۔علما کرام سے اپیل کی کہ وہ جمعے کے خطبات میں متنازع اقدامات کو “غیر اسلامی، غیر جمہوری اور غیر آئینی”قرار دیتے ہوئے عوام کو یومِ سیاہ کے لیے تیار کریں۔ محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ چوروں، ڈاکوں اور قاتلوں کو عمرہ کا استثنا دینا ظلم ہے اور اس کے خلاف آواز اٹھانا ہر عالم دین کی ذمہ داری بنتی ہے۔تحریک تحفظ آئین پاکستان پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور بغیر گالی، دشنام اور الزام تراشی کے عوامی طاقت کے ذریعے موجودہ حکومت کو گھر بھیجے گی اور ایک نئے جمہوری پاکستان کی بنیاد رکھی جائے گی۔