حال نیوز۔۔۔۔۔۔آزاد کشمیر، چوہدری انوار الحق فارغ، فیصل راٹھور وزیراعظم بن گئے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی، نئے وزیراعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور کو 36ووٹ ملے، مخالفت میں 2 ووٹ کاسٹ ہوئے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص ہی آئین اور انتظامی ڈھانچے کی تباہی کا ذمے دار ہو، کیا میری کابینہ ذمے دار نہیں؟۔ وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی۔تحریک عدم اعتماد میں متبادل قائد ایوان کے طور پر فیصل ممتاز راٹھور کا نام پیش کیا گیا ہے، راجہ فیصل ممتاز راٹھور کو 36ووٹ ملے، مخالفت میں 2 ووٹ کاسٹ ہوئے۔
چوہدری انوارالحق کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص ہی آئین اور انتظامی ڈھانچے کی تباہی کا ذمے دار ہو، کیا میری کابینہ کے ممبران اس کے ذمے دار نہیں؟ان کا کہنا تھا کہ آج کا خطاب باتیں ریکارڈ پر لانے کے لیے کر رہا ہوں، اس ایوان نے مجھے جنم دیا، آج ان سب کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں۔ مجھے اسی ایوان سے کہا گیا کہ 15 فروری تک اسمبلی تحلیل کر دو۔انوارالحق کا کہنا ہے کہ اپنی پوری کابینہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میری آزادی کے پروا نے پر دستخط کیے، کہا گیا آپ کو بکتربند گاڑی پر لے کر جاتے ہیں، میں نے کہا کہ سیاسی کارکن ہوں۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ الحمداللّٰہ آج یہاں سے سرخرو ہو کر جا رہا ہوں، میں نے بارہا کہا کہ میری موجودگی میں تقسیم کشمیر کا کوئی فارمولہ نہیں ہوسکتا، مہاجرین کی نشستون کو ختم کرنے پر دستخط کرتا تو یہ میری سیاسی موت تھی، میں نے یہاں سے مودی کو بھی للکارا، اسے فتنہ خوارج نہیں فتنہ ہندوستان کہا۔ رائے شماری مکمل ہوتے ہی نامزد وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور اپنے عہدے کا حلف لیں گے جبکہ چوہدری انوار الحق رائے شماری کے بعد عہدہ چھوڑ دیں گے۔
تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنیوالے آزاد کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق مظفرآباد روانہ ہوگئے ہیں۔روانگی سے قبل انہوں نے کشمیر ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دن سے متعلق ایک ہی بات کہنا چاہتا ہوں کہ شکر الحمدللّٰہ آج آزادی کا دن ہے، کیوں نہ سیلیبریٹ کروں۔ انہوں نے نئے آنے والے وزراء کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللّٰہ پاک ان کو کامیاب کرے، اللہ تعالیٰ نے تقریباً ڈھائی سال خدمت کا موقع دیا، میں 6 ماہ پہلے ہی جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔