بلوچستان، ڈیجیٹل بلیک آؤٹ میں 2 دن کی توسیع، سڑکیں بند

حال نیوز۔۔۔۔۔۔بلوچستان، ڈیجیٹل بلیک آؤٹ میں 2 دن کی توسیع، صوبے میں درجنوں سڑکیں بدستور بند ہیں۔  کوئٹہ مکمل سیکیورٹی زون میں تبدیل سڑکوں کی بندش اور انٹرنیٹ مزید 2دن کی توسیع کر دی گئی ہے، جس سے طالبعلموں، کاروباری افراد اور مریضوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں بلوچستان میں ڈیجیٹل بلیک آوٹ 7روز مکمل، کوئٹہ سمیت 36اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ معطل ہے، کوئٹہ شہر میں مجموعی طور پر 60بار سے زائد موبائل انٹرنیٹ سروس بند ہو چکی ہے، شہری و سیاسی حلقے حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں: بنیادی ڈیجیٹل حقوق فوری بحال کیے جائیں۔بلوچستان کا دارالحکومت سیکیورٹی اقدامات کے باعث عملی طور پر سیکیورٹی زون میں تبدیل ہوگیا ہے، جہاں سڑکوں کی مسلسل بندش، راستوں کی یکطرفہ تبدیلی اور انٹرنیٹ ڈیٹا سروس کی معطلی نے لاکھوں شہریوں کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔

کوئٹہ کے علاقے زرغون روڈ کے بعد انسکمب روڈ کو بھی یکطرفہ کر دیا گیا ہے، جس سے شہر بھر کا ٹریفک نظام بری طرح درہم برہم ہوگیا ہے جبکہ ڈبل روڈ اور اس سے ملحقہ راستوں سے کچہری اور سیشن کورٹ کی جانب ٹریفک شدید متاثر ہورہی ہے۔انسکمب روڈ کی بندش کے سبب سول ہسپتال تک مریضوں کی رسائی تقریبا ناممکن ہو گئی ہے کیونکہ اسپتال کا مرکزی دروازہ اسی روڈ پر واقع ہے۔ شہری حلقوں نے اسے بدترین حکومتی نااہلی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی کے نام پر سڑکیں بند کرنا عوام کے لیے عذاب بن چکا ہے۔ عوام نے عدلیہ سے فوری طور پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

حالی روڈ اور ماڈل ٹاون کے راستوں کو بھی محدود کردیا گیا ہے، جس سے مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔دوسری جانب کوئٹہ میں موبائل انٹرنیٹ سروس کی معطلی میں مزید دو دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات کے مطابق انٹرنیٹ سروس 18نومبر تک معطل رہے گی جبکہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اس میں مزید توسیع بھی ممکن ہے، جس سے طالبعلموں، کاروباری افراد اور مریضوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔بلوچستان میں موبائل انٹرنیٹ کی بندش کا سلسلہ طویل اور شدید ہوگیا ہے، اور صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت 36اضلاع میں مخصوص 5کلومیٹر کے دائروں کو چھوڑ کر باقی تمام علاقوں میں ڈیجیٹل بلیک آوٹ 7روز مکمل کر چکا ہے۔

صوبائی حکومت نے پہلے اس بندش کو 16نومبر تک محدود کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم اسے دوبارہ 18نومبر تک بڑھا دیا گیا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق موجودہ وزیراعلی میر سرفراز بگٹی کی حکومت کے قیام سے اب تک صرف کوئٹہ شہر میں مجموعی طور پر 60بار سے زائد موبائل انٹرنیٹ سروس بند ہو چکی ہے۔ وزیراعلی سرفراز بگٹی کا موقف رہا ہے کہ بلوچستان میں انٹرنیٹ ہی دہشتگردی کی وجہ ہے، اسی لیے کسی بھی چھوٹے مظاہرے، احتجاج یا سیکورٹی خطرے کی صورت میں سب سے پہلا اقدام انٹرنیٹ کی بندش ہوتا ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی دراصل عوام کو بنیادی ڈیجیٹل حقوق سے محروم کرنے اور حکومتی ناکامیوں پر عوامی ردعمل کو دبانے کے مترادف ہے۔

انٹرنیٹ کی طویل بندش کے باعث صوبے کی سماجی اور معاشی زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ طلبہ کا تعلیمی سلسلہ رک گیا، خاص طور پر آن لائن کلاسز اور تحقیقاتی کام متاثر ہوا ہے۔ ہزاروں نوجوان اور شہری جو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، ای کامرس اور آن لائن سروسز پر انحصار کرتے تھے، وہ مسلسل انٹرنیٹ کی بندش کے باعث بے روزگار ہو گئے ہیں، جس سے پہلے سے کمزور معیشت والے صوبے میں معاشی بدحالی مزید بڑھ گئی ہے۔شہری حلقوں اور سیاسی جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امن و امان کے مسائل کو ٹیکنالوجی پر پابندیوں سے حل کرنے کے بجائے پیشہ ورانہ اور جدید حکمت عملی اپنائی جائے، اور عوام کو ان کے بنیادی ڈیجیٹل حقوق سے محروم کرنے کا سلسلہ فوری طور پر ختم کیا جائے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.