حال نیوز۔۔۔۔۔افغان طالبان کا دوہرا معیار سامنے آگیا، افغان طالبان رجیم اور فتنہ خوارج کے اسلام کے لبادے میں چھپے مکروہ عزائم بے نقاب ہو گئے، طالبان رجیم ایک جانب خود کو ’امارت اسلامی‘کہتی،دوسری جانب ہندوتوا نظریے سے روابط بڑھا رہی ہے۔ افغان طالبان کی رجیم اور فتنہ خوارج جیسے انتہا پسند گروہ ایک بار پھر اسلام کے مقدس نام کو اپنے ناپاک مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں، ان عناصر کے حقیقی چہرے اب دنیا کے سامنے بے نقاب ہو رہے ہیں۔
طالبان اسلام جیسے پرامن مذہب کو دہشت کی علامت بنانے پر تلے ہوئے ہیں، معصوم انسانوں کا خون بہانا، خودکش دھماکے کرنا اور مساجد کو نشانہ بنانا اسلام نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جنگ ہے۔ افغان طالبان رجیم ایک جانب خود کو ”امارت اسلامی“کہتی ہے جبکہ دوسری جانب ہندوتوا نظریے سے روابط بڑھا رہی ہے، طالبان کے متعدد آفیشل اور غیر آفیشل اکاؤنٹس پر پاکستان کے خلاف حملوں کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔
طالبان بھارت میں ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہیں مگر پاکستان میں جاری دہشتگردی اور خودکش حملوں پر مکمل خاموش رہتے ہیں جس سے ان کے دوہرے معیار اور بھارت سے وفاداری کے تاثر کو مزید تقویت ملتی ہے۔ اسلام نے ہمیشہ امن، برداشت اور عدل کا پیغام دیا ہے مگر افغان طالبان رجیم اور فتنہ خوارج نے اس پیغام کو مسخ کر کے نفرت اور بربریت کو فروغ دیا، ان کے اعمال سے واضح ہے کہ یہ نہ اسلام کے نمائندے ہیں اور نہ ہی انسانیت کے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا اسلام کے نام پر چلنے والی اس انتہا پسندی کی حقیقت کو سمجھے جو امن کے بجائے تباہی پھیلانے پر تلی ہوئی ہے۔