بلوچستان کی ساحلی پٹی پر ایک اور ڈیپ سی پورٹ بنانے کا اعلان

حال نیوز۔۔۔۔۔حکومت پاکستان کی جانب سے بلوچستان کی ساحلی پٹی پر ایک اور ڈیپ سی پورٹ بنانے کا اعلان کر دیا گیا، گڈانی تا جیونی میں جدید بندرگاہیں قائم کی جائیں گی، وفاقی وزیر برائے بحری امور نے اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دے دی، تین ماہ میں جامع فزیبلٹی رپورٹ پیش کی جائے گی، بلوچستان کا 1024کلومیٹر طویل ساحلی خطہ ملک کی اقتصادی ترقی اور سمندری معیشت کا نیا محور بنے گا۔ جنید انوار وفاقی وزیر برائے بحری امور نے بلوچستان کی 1024کلومیٹر طویل ساحلی پٹی پر نئی ڈیپ سی پورٹس کے قیام کے لیے ایک اعلی سطحی کثیرالادارہ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ کمیٹی نئی بندرگاہوں کے لیے موزوں مقامات کی نشاندہی، فزیبلٹی رپورٹ کی تیاری اور سرمایہ کاری تجاویز پر کام کرے گی۔

جنید انور چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ اقدام پاکستان کے سمندری و معاشی مستقبل کے لیے سو سالہ وژن کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک کو بحرِ ہند کے اہم سمندری مرکز کے طور پر ابھارنا ہے۔ کمیٹی کا پہلا اجلاس آئندہ ہفتے منعقد ہوگا، جس میں وزیر خود شرکت کریں گے۔کمیٹی میں پورٹ قاسم اتھارٹی، کراچی پورٹ ٹرسٹ، گوادر پورٹ اتھارٹی، اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل، وزارت بحری امور، صوبائی حکومتیں، پاکستان کے سروے جنرل اور ہائڈروگرافی ماہرین شامل ہیں۔ یہ ادارے ساحلی بندرگاہی مقامات، شپ یارڈز، توانائی مراکز اور تجارتی راستوں کے تفصیلی تجزیے کے ذمہ دار ہوں گے۔

جنید انور چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی موجودہ بندرگاہیں، جیسے پورٹ قاسم 65فیصد، کراچی پورٹ 52فیصد، اور گوادر پورٹ 5تا 10فیصد صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں، اور بڑھتی ہوئی صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کے پیش نظر 2035سے 2045تک یہ بندرگاہیں مکمل استعداد پر پہنچیں گی۔کمیٹی اپنی فزیبلٹی رپورٹ میں تکنیکی جائزے، ہائڈروگرافک نقشے، سیٹلائٹ ڈیٹا، ماحولیاتی تجزیے، سرمایہ کاری کے مواقع اور ساحلی تحفظ کے امور شامل کرے گی۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری کا کہنا تھا کہ نئی بندرگاہیں کارگو ہینڈلنگ، گرین انرجی، ڈیجیٹل پورٹ مینجمنٹ اور آٹومیشن ٹیکنالوجیز سے لیس ہوں گی، اور یہ منصوبے سی پیک، علاقائی تجارت، اور سمندری معیشت کو فروغ دیں گے۔محمد جنید انوار چوہدری نے زور دیا کہ بلوچستان کے عوام اور صوبائی حکومت اس وژن کے بنیادی حصہ ہوں گے، اور یہ منصوبہ نہ صرف بندرگاہوں بلکہ پورے ساحلی خطے کی معاشی تقدیر بدلنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.