اپوزیشن کا احتجاج رائیگاں، 27 ویں ترمیم قومی اسمبلی سے بھی منظور

حال نیوز۔۔۔۔۔۔اپوزیشن کا احتجاج رائیگاں، 27 ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثرت کیساتھ منظور کر لی گئی۔ پاکستان تحریک انصاف نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا،جے یو آئی (ف) نے 27 ویں آئینی ترمیم کی مخالفت میں ووٹ دیا،اپوزیشن کی نعرہ بازی، بل کی کاپیاں پھاڑنے اور احتجاجی مظاہرے،سپیکر ڈائس کے سامنے دھرنا، سپیکر نے سیکیورٹی اسٹاف طلب کر لیا۔ قومی اسمبلی میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے دوران شدید نعرہ بازی اور سخت سیکیورٹی اقدامات دیکھنے میں آئے۔ ترمیم کی تحریک دو تہائی اکثریت کے ساتھ 231 ووٹوں سے منظور کر لی گئی۔ اجلاس کی صدارت سپیکر سردار ایاز صادق نے کی۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے ملک میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت کی اور کہا کہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان نظریاتی اختلاف کے باوجود دہشت گردی کے خلاف متحد ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے آئینی عدالت کے قیام اور میثاقِ جمہوریت کے وعدوں کی تکمیل کے لیے اقدامات کیے۔ بلاول نے بتایا کہ آئینی عدالت میں صوبوں کی یکساں نمائندگی ہوگی اور ججز کے ازخود نوٹس کے استعمال پر واضح پابندی آئے گی۔اجلاس کے دوران بلاول نے وزیراعظم کی نشست پر جا کر سابق وزرائے اعظم شہباز شریف اور نواز شریف سے مصافحہ کیا

وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترامیم ایک ارتقائی عمل ہیں اور انتہائی سوچ سمجھ کر کی جانی چاہئیں۔ انہوں نے آرٹیکل سکس میں آئینی عدالت سے متعلق ترامیم کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے حوالے سے بعض ابہامات دور کرنے کے مزید مسودات پیش کیے جائیں گے اور جسٹس یحییٰ آفریدی ہی چیف جسٹس آف پاکستان رہیں گے۔ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج جاری رہا؛ کچھ ارکان نے بانی پی ٹی آئی کی تصاویر اور پلے کارڈز اٹھا کر شور مچایا۔

حکومت کے اراکین نے صدر مملکت کی حمایت اور آئینی ترامیم کی دفاعی حکمت عملی پیش کی، جبکہ اپوزیشن نے اسے آئین اور عدلیہ پر حملہ قرار دیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے ستائیسویں آئینی ترمیم کو تاریخی قرار دے دیا۔ اجلاس کے آخر میں ترمیم کی ووٹنگ کروائی گئی اور ایوان نے اسے منظور کر لیا۔ منظوری کے بعد بھی اپوزیشن کی جانب سے شدید نعرہ بازی اور احتجاجی مظاہرے جاری رہے، جبکہ سیکیورٹی اہلکار اسپیکر ڈائس کے اردگرد تعینات رہے۔مسلم لیگ ن کے اراکین کی جانب سے شدید نعرہ بازی اور احتجاج بھی جاری رہا۔ کچھ ارکان نے ترمیمی بل کی کاپیاں پھاڑ کر ایوان میں اچھالیں اور اسپیکر کے سامنے کھڑے ہو کر احتجاج کیا، جس پر سیکیورٹی اسٹاف طلب کیا گیا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.