حال نیوز۔۔۔۔۔۔ہم ستائیسویں ترمیم کو نہیں مانتے، تجاویز کا حصہ نہیں بنیں گے، پی ٹی آئی پارلیمان میں پیش کی جانے والی ترمیمی تجاویز کا حصہ نہیں بنے گی، نوازشریف پاکستانی سیاست سے غیر متعلق ہو چکے، خواجہ آصف کو یاد دلانا چاہیے کہ وہ خود ماضی میں راجہ پرویز اشرف کی حکومت کے خلاف پٹیشن لے کر چیف جسٹس افتخار چوہدری کے پاس گئے تھے۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت پارلیمان میں پیش کی جانے والی ترمیمی تجاویز کا حصہ نہیں بنے گی۔بلکہ پی ٹی آئی احتجاج، واک آؤٹ اور تقاریر کے ذریعے اپنا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کرے گی۔ نواز شریف اب پاکستانی سیاست سے غیر متعلق ہو چکے ہیں۔
بیرسٹر گوہر علی خان کا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پارٹی قیادت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ موجودہ ترامیم میں شامل ہونا عوامی مینڈیٹ کے منافی ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے کہ ہم اس ترمیمی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے، پارلیمان میں احتجاج بھی کریں گے اور واک آؤٹ بھی۔ ایک صحافی کے سوال پر کہ نواز شریف کی پارلیمنٹ آمد پر پی ٹی آئی انہیں خوش آمدید کہے گی یا نہیں، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ وہ آئیں یا نہ آئیں، اب پاکستانی سیاست سے غیر متعلق ہو چکے ہیں۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ نواز شریف یہ خیال کر رہے تھے کہ ان کی آمد پر ریڈ کارپٹ بچھایا جائے گا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا، پارلیمان میں کسی نے ان کے لیے ریڈ کارپٹ نہیں بچھائی۔ نواز شریف نے ایوان میں آ کر صرف تین الفاظ بولے، جو ان کی سیاسی غیر فعالی کی علامت ہے۔انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کو یاد دلانا چاہیے کہ وہ خود ماضی میں راجہ پرویز اشرف کی حکومت کے خلاف پٹیشن لے کر چیف جسٹس افتخار چوہدری کے پاس گئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میاں نواز شریف خود وکیل بن کر میمو گیٹ کمیشن بنوانے نہیں گئے تھے؟بی پی آئی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریگی اور پارلیمان میں جمہوری طریقے سے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔