حال نیوز۔۔۔۔۔۔افغان حکومت نے پاکستانی ادویات کی درآمد پر پابندی عائد کردی، افغان طالبان کا پاکستان کے ساتھ تجارت پر نیا مقف تجارتی راستے کھلے رکھنے کے لیے ٹھوس ضمانت کا مطالبہ، پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت معاہدے کے احترام اور یقین دہانی تک ممکن نہیں۔ افغانستان کی عبوری حکومت نے پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کے حوالے سے نیا مقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد کو تجارتی راستے کھلے رکھنے کے لیے اب ٹھوس ضمانتیں دینا ہوں گی۔
افغان طالبان حکام کے مطابق جب تک فریقین کے درمیان باہمی احترام، یقین دہانی اور معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی نہیں بنایا جاتا، پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت ممکن نہیں۔ذرائع کے مطابق افغان حکومت نے پاکستان سے ادویات کی درآمد پر باضابطہ پابندی عائد کر دی ہے، جس کے بعد سرحدی علاقوں میں ادویات کی ترسیل مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔
افغانستان کی وزارتِ تجارت و صنعت کے حکام نے بتایا کہ پاکستانی دوا ساز کمپنیوں کو بارہا معیار اور ادائیگی سے متعلق مسائل پر خبردار کیا گیا تھا، لیکن بہتری نہ آنے کے باعث یہ فیصلہ ناگزیر ہوگیا۔اسپین بولدک میں افغان طالبان کے ضلعی نمائندوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کی جانب سے بارڈر بندشوں، تاخیر اور غیر متوقع فیصلوں نے افغان تاجروں کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔
پاکستان اگر مستقبل میں تجارتی تعاون چاہتا ہے تو اسے تحریری ضمانت دینا ہوگی کہ بارڈر ٹریڈ میں تسلسل برقرار رہے گا۔افغان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تجارت میں بار بار تعطل سے افغان معیشت اور مقامی صنعت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ طالبان حکومت متبادل تجارتی راستوں کی تلاش میں مصروف ہے اور ایران، چین اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی تعاون بڑھانے کے لیے رابطے تیز کر دیے گئے ہیں۔