صدر کو تاحیات استثنیٰ، 27ویں آئینی ترمیم مسودے کی حتمی منظوری

حال نیوز۔۔۔۔۔۔صدر کو تاحیات استثنیٰ حاصل،  27ویں آئینی ترمیم مسودے کی حتمی منظوری دیدی گئی، اپوزیشن کی غیرحاضری کے باوجود کمیٹی نے 27 ویں ترمیم کا بنیادی مسودہ منظور کر لیا،  27ویں آئینی ترمیم پر حکومتی مشاورت تیز، کمیٹی کا 85 فیصد کام مکمل،وزیر اعظم نے خود استثنیٰ کی تجویز مسترد کر دی، صدر و دیگر عہدوں کے فنکشنز علیحدہ رہیں گے،  27ویں ترمیم کی رپورٹ آج کو سینیٹ میں پیش ہونے کا امکان،کمیٹی نے آرٹیکل 243 میں ترامیم اور دیگر اہم شقیں حتمی شکل دے دی۔ آئین میں 27ویں ترمیم سے متعلق مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے بنیادی مسودے کی حتمی منظوری دے دی، تاہم حکومتی اتحادی جماعتوں کی جانب سے پیش کی گئی کچھ تجاویز پر حتمی فیصلہ اجلاس میں نہ ہو سکا۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ کمیٹی نے کچھ ترامیم کرنے کا اختیار خود اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کو دیا ہے۔

چیئرمین پارلیمانی کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ان کیمرہ منعقد ہوا، تاہم اپوزیشن جماعتوں کے اراکین شریک نہ ہوئے۔ جے یو آئی (ف)، تحریک انصاف اور مجلس وحدت المسلمین کے کسی رکن نے اجلاس میں شرکت نہیں کی، جس پر کمیٹی نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اپوزیشن جان بوجھ کر عمل سے خود کو الگ رکھ رہی ہے۔اجلاس میں وفاقی وزیر احد چیمہ، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل عثمان منصور اعوان نے شرکت کی۔ اٹارنی جنرل نے اجلاس کے دوران حکومتی شخصیات سے مشاورت کے لیے وقفہ لیا اور بعد ازاں دوبارہ اجلاس میں شامل ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں آئینی ترمیم کی تمام شقیں پڑھی گئیں، اور اب تک کسی بڑی تبدیلی پر اتفاق نہیں ہوا۔ صرف بعض نکات میں معمولی ترامیم جیسے کامہ یا فل اسٹاپ شامل کیے گئے۔ سب سے اہم، صدر کو کریمنل پروسیڈنگز میں تاحیات استثنیٰ دینے کی شق کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

سینیٹر انوشہ رحمان نے وزیراعظم کی ہدایت پر وزیراعظم کے استثنیٰ سے متعلق تجویز واپس لے لی، جسے چیئرمین کمیٹی نے سراہا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کا 85 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور ایم کیو ایم سمیت مختلف جماعتوں کی تجاویز پر وقفے کے بعد غور کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران اے این پی کی صوبے کے نام کی تبدیلی کی تجویز موخر کردی گئی جبکہ بی اے پی کے صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے پر بات وزیراعظم ہاؤس میں ہوگی۔ ایم کیو ایم کا بلدیاتی انتخابات کو آئینی تحفظ دینے کا مطالبہ تسلیم کر لیا گیا۔نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے مختصر گفتگو میں کہا کہ ترمیم پر مشاورت جاری ہے اور کمیٹی خود فیصلہ کرے گی کہ کب کام مکمل ہوتا ہے۔ اجلاس کے دوران ترامیم کا حتمی مسودہ وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی سربراہی میں تیار کیا گیا، جس میں آئین کے آرٹیکل 243 میں ترامیم اور صدر کے تاحیات استثنیٰ کی شق شامل ہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.