چند لوگوں کیلئے آئین کا بیڑا غرق کر دیا گیا، تحریک انصاف

حال نیوز۔۔۔۔۔۔ایوان بالا میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر علی ظفر نے سینیٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کو مسترد کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند لوگوں کو بچانے کیلئے پوری عدلیہ اور آئین کا بیڑا غرق کیا جارہا ہے جسے ہم کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ایک آزاد عدلیہ کے بغیر معاشرے میں انصاف نہیں ہوتا اور جس معاشرے میں انصاف نہ ہو وہاں نہ تو آزادی ہے اور نہ ہی سالمیت ہے ان کا کہنا تھا کہ اگلے چند گھنٹوں میں ایک بل کیلئے سپریم کورٹ کا جنازہ اس ایوان سے نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے‘کوشش کرونگا کہ ایوان میں موجود اراکین ہمارے ساتھ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ غلط فہمی ہے کہ آئین صرف ایک قانونی دستاویز ہے بلکہ یہ قوم کا زندہ رشتہ اور معاہدہ ہے جو عوام اورریاست کے درمیان ہے‘ اس کی اپنی ایک روح،احساس اور نظریہ ہے یہ وہ وعدہ ہے کہ جس میں آپ جس علاقے سے بھی ہوں اس پر متفقہ طور پر سب نے کہاہے کہ ہم اپنی پرامن زندگی انصاف اور قانون کے مطابق گزاریں گے۔

سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ یہ آئین پوری قوم کا ہے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی کرنااور کسی قسم کی غلطی کرنا پوری عمارت کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 1973کے آئین کے بعد دو ڈکٹیٹرز آئے اور انہوں نے اس میں بہت سی ترامیم کی انہوں نے آئین کو توڑا اور اس کے بعد 18ویں ترمیم آئی جس کو 9ماہ لگے اور1973ء کے آئین کی بنیادی روح کو واپس لایا گیا‘ اب دوبارہ آئین کے کے 5اہم نکات کو چھیڑا جارہا ہے‘ اس آئین کے تحت صوبے خودمختار ہیں یہ پارلیمنٹ عوام کے ووٹ سے بنتی ہے وہ بااختیار ہے لیکن آئین کے پابند ہیں تیسرا آئین نے عوام کو بنیادی حقوق دئیے گئے ہیں اور اس پر عمل درآمد کے عدالتیں بنائی گئی اور ایک ازاد عدلیہ کے ساتھ پورے آئین کو عوام بالادستی دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ستونوں پر آئین کھڑا ہے اگر اس کو زرا سا بھی ہلائیں گے تو یہ پورا ہل جائے گا۔

پی ٹی آئی کے رہنماء کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پچھلے دو تین سالوں میں ایک افسوس ناک اور ہولناک داستان دیکھنے میں آرہی ہیان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی حکومت ہٹائی گئی اور اس کے بعد آئین میں توازن کو تہس نہس کرنا شروع کردیا گیا ان کا کہنا تھا کہ جب پنجاب اسمبلی اور خیبر پختونخوا اسمبلی کو توڑا گیا اور 90روز میں الیکشن نہیں کرائے گئے جو کہ سپریم کورٹ اور آئین کی خلاف ورزی ہے ان کا کہنا تھا کہ سابقہ چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسی کی عدالت نے ایک فیصلہ کیا اور پی ٹی آئی سے نشان چھین لیا گیاتاکہ اسے انتخابات میں شکست ہو مگر نشان نہ ہونے کے باوجود بانی پی ٹی آئی نے جس جس کو نامزد کیا اس کو بھاری اکثریت سے جتوایا گیاانہوں نے کہاکہ قاضی فائز عیسی نے جاتے جاتے فیصلہ کیا کہ آرٹیکل 63اے پر ووٹ کی پابندی ختم کردی اور دروازہ کھول دیا اس کے باوجود پی ڈی ایم حکومت کے پاس اکثریت نہیں تھی اور کچھ لوگوں کو زبردستی مجبور کیا اور جے یوآئی کے ساتھ دھوکہ کیا۔

سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ہم 26ویں ترمیم کے موقع پر بحث میں موجود تھے اور جے یوآئی کو قائل کر رہے تھے کہ اس کو مسترد کرے اس وقت ہم نے کہاکہ یہ غلط ہے ہم اس کو نہیں مانتے ہیں اور ہم نے 26ویں ترمیم کو مسترد کیا تھا ان کا کہنا تھا کہ 26ویں ترمیم کے تحت بنچ بن گیا اور میں نے کہاتھا کہ 27ویں ترمیم آنے والی ہے یہ ایک قدم ہے یہ عدالتوں کی آزادی کو ختم کرنا چاہتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ 27ویں ترمیم کیلئے ان کو چند چیزیں چاہیے تھی حکومت نے سب سے پہلے بنچ کے زریعے مخصوص نشستوں کا فیصلہ اپنے حق میں کرالیا اور پی ٹی آئی کی مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو دیدی اس کے بعد دوسر ا فیصلہ ملٹری ٹرائلز کا لیا گیا تاکہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو سزائیں ہوسکے اور تیسر ا اسلام آباد ہائیکورٹ کو کنٹرول کرنا تھا تاکہ بانی پی ٹی آئی کے کیسز نہ سنائے جاسکیں تو گویا 27ویں ترمیم کیلئے پورا ماحول بنا دیا گیا اور ایک دم ٹویٹ کے زریعے پتہ چلا کہ ترمیم آرہی ہے۔

سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ 27ویں ترمیم میں کیا ہونے جارہا ہے اس سے پورے ایوان اور قوم کو اگاہ کرتا ہوں ان کا کہنا تھا کہ اگر دو تہائی اکثریت ہو تو اس میں تبدیلی کی جاسکتی ہے جب آئین کی ترمیم ہو تو وہ اتفاق رائے سے ہونی چاہیے ان کا کہنا تھا کہ گولی کے زریعے آئین میں ترمیم نہیں ہوسکتی ہے اس وقت پی ٹی آئی ملک کے کروڑوں عوام کی نمائندہ جماعت ہے اور ہم ان ترامیم کو مستر د کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ یہ ترامیم کرنے والے کون ہیں ایسے لوگ ہونے چاہیے جو صحیح معنوں میں عوام کے منتخب کردہ ہوں اور انہیں عوام کا خیال ہو اور ان کیلئے کام کرنا چاہتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ یہ الیکشن چرایا ہوا ہے جو لوگ جیتے ہیں وہ پارلیمنٹ میں نہیں ہیں یہ پارلیمنٹ بااختیار نہیں ہے کہ یہ ترامیم منظور کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری نظر میں یہ نورا کشتی ہے یہ پی ایم ایل این اور ان کے اتحادی جماعتوں نے پہلے سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم نے کیا ترامیم کرنی ہے۔

سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی یہ کہے گی کہ ہم نے این ایف سی ایوارڈ اور صوبائی خود مختاری کو بچا لیا ہے اسی وجہ سے ہم نے ان کمیٹیوں میں شرکت نہیں کی ہے ان کا کہنا تھا کہ اس ترامیم میں کیا ہورہا ہے اس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کو سپریم ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بنا دیا گیا ہے اور اس کی طاقت ایک وفاقی آئینی عدالت کو دی جارہی ہے یہ عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے سریم کورٹ کو ختم کرکے ایک نئی عدالت بنائی جارہی ہے جس کی کوئی ضرورت نہیں ہیان کا کہنا تھا کہ ججز کی عمریں 68سال کردی گئی ہے اور صدر مملکت ان کی نامزدگی کر سکتے ہیں یہ ایک تحفہ دیا جارہا ہے اور حکومت اپنے فیورٹ ججز لارہی ہے اور اس میں وہ کیسز آئیں گے جو حکومت اور شہریوں کے درمیان ہیں اور حکومت اپنے منتخب کردہ ججوں کے زریعے فیصلے لیں گے۔

سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹیو ہمیشہ ججز کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے اور اس کا سب سے بڑا زہر ٹرانسفر کا طریقہ کار ہے اور یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اگر آپ نہیں مانیں گے تو وہ ریٹائرڈ ہوجائیں گے اور یہ ایک ایسی تلوار ہے جو کہ جوڈیشری کو ایگزیکٹیو کے کنٹرول میں لے آئیں گیان کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ کی آرٹیکل 199کو ختم کردیا گیا ہے اس کیلئے اب کہا گیا ہے کہ اس کیلئے جے سی پی فیصلہ کرے گی کہ یہ کونسے جج سنیں گیان کا کہنا تھا کہ فیڈرل آئینی کورٹ کو بہت ساری طاقت دیدی گئی ہے اور اس پر سپریم کورٹ پر اس کے فیصلے بھی لاگو نہیں ہونگے اس سے سسٹم تباہ ہوجائے گی۔

سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ 26ویں ترمیم کا کیس بھی اب آئینی عدالت میں جائے گا اور اس کا رزلٹ بھی پتہ چل جائے گاان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں صرف دو فیصد کیسز سپریم کورٹ میں ہیں جبکہ باقی کیسز دیگر عدالتوں میں ہے اور جو یہ کہہ رہا ہے وہ جھوٹ بول رہا ہے اور غلط بیانی کر رہا ہے انہوں نے کہاکہ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے اس سے ایک دوسرے کو تحفظ دینے کی کوشش کی جارہی ہے انہوں نے کچھ لوگوں کو بچانے کیلئے کچھ تراہم لائی جارہی ہیں انہوں نے کہاکہ میں نے کچھ دلائل دئیے ہیں کہ یہ آئینی ترامیم آئین کی روح کو تباہ کردے گی میری درخواست ہے کہ ان تمام ترامیم کو مسترد کیا جائے ہم اس پر بیٹھ کر سوچتے ہیں ہم آپ کے ساتھ بیٹھنے کیلئے تیار ہیں اور ایسی ترامیم لانے چاہیے جو عوام کی بھلائی کیلئے ہوں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.