حال نیوز۔۔۔۔۔۔کپتانی کے پیچھے کبھی نہیں بھاگا جو ہوتا ہے اچھے کیلئے ہوتا ہے، کچھ فیصلے آپ کے ہاتھ میں نہیں ہوتے یہ ٹیم مینجمنٹ اور سلیکٹرز کے فیصلے ہوتے ہیں، شاہین آفریدی میرے لیے پہلے بھی کپتان تھا اور اب بھی ہے،پہلے میچ میں کچھ غلطیاں ہوئی جس سے سیکھنے کی کوشش کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کا کہنا تھا کہ کچھ فیصلے آپ کے ہاتھ میں نہیں ہوتے یہ ٹیم مینجمنٹ اور سلیکٹرز کے فیصلے ہوتے ہیں،شاہین آفریدی میرے لیے پہلے بھی کپتان تھا اور اب بھی ہے، جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے و نڈے میں کچھ غلطیاں ہوئی جس سے سیکھنے کی کوشش کریں گے۔
محمد رضوان کا کہنا تھا کہ ہم سب کا یہی خیال تھا کہ ٹاس جیتنے کے بعد یہاں پہلے باؤلنگ کرنا بھی بہتر ہوگا کیونکہ بعد میں اوس پڑتی ہے جس کی وجہ سے باؤلنگ کروانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔اچھی اننگز کھیلنے کے باوجود میچ فنش نہ کرنے سے متعلق انہوں نے کہاکہ یہ بات بالکل درست ہے، میں نے اور سلمان علی آغا نے اچھی اننگز کھیلی اور ہمیں میچ کو فنش کرنا چاہیے تھا کیونکہ پچ بہت مشکل ہوگئی تھی اور مہمان ٹیم کو بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ پچ کا رویہ کیسا ہے، ہم نے کوشش کی تھی کہ میچ کو آخر تک لے جائیں مگر کچھ غلطیاں ہوئی جس سے سیکھنے کی کوشش کریں گے۔
محمد رضوان کا کہنا تھا کہ لاہور، فیصل آباد، پشاور جہاں کا بھی گراؤڈ دیکھیں گے تو یہ بہت سپورٹ کرتے ہیں یہاں تک نیشنل ٹی20 کپ میں بھی بڑی تعداد میں لوگ میچ دیکھنے آتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمارے تماشائیوں کی اچھی بات یہ ہے کہ وہ نہ صرف اپنی ٹیم کو سپورٹ کرتے ہیں بلکہ وہ مہمان ٹیم کے حق میں بھی نعرے بازی کررہے تھے جسے دیکھ کر جنوبی افریقہ والے بھی حیران ہوگئے تھے، مگر یہ اچھی چیز ہے کہ ہمارے لوگ کرکٹ کو سپورٹ کرتے ہیں۔
محمد رضوان کا کہنا تھا کہ کچھ چیزیں آپ کے ہاتھ میں نہیں ہے، یہ منیجمنٹ اور سلیکٹرز کے فیصلے ہوتے ہیں، میرے ہاتھ میں صرف محنت کرنا ہے جو میں کررہا ہوں لیکن اس سوال سے متعلق میرے پاس کوئی جواب نہیں کہ میں کن الفاظ میں ان کی وضاحت کروں۔انہوں نے کہا کہ ان کی کپتان میں تمام پلیئرز ہی کپتان تھے، شاہین آفریدی پہلے بھی کپتان تھا اور اب بھی کپتان ہے اس لیے مجھے زیادہ فرق نہیں پڑا اور نہ ہی ہمارے رشتے میں کوئی فرق آیا ہے، اب بھی جو سمجھ آرہا ہے وہ شاہین کو مشورہ دے رہا ہوں۔