حال نیوز۔۔۔۔۔۔انڈین آرمی افسران جنسی درندے بن گئے، خواتین کی عزتیں نیلام ہونے لگیں، انڈین آرمی میں خواتین افسران کے ساتھ جنسی ہراسانی کے سنگین واقعات کا انکشاف، 2015 سے 2025 تک کئی مقدمات منظرِ عام پر، انصاف صرف عدالتی مداخلت سے ممکن، فوجی نظام میں احتساب کی ناکامی، متاثرہ خواتین پر شکایت واپس لینے کے دباؤ بڑھنے لگا۔ انڈین آرمی میں خواتین افسران کو جنسی ہراسانی، جسمانی حملوں، دھمکیوں اور انصاف میں تاخیر جیسے واقعات کا سامنا ہے، جس نے فوج کے نظم و ضبط اور احتسابی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رواں سال پٹیالہ کے ون آرمڈ ڈویژن میں ایک خاتون میجر نے حاضر سروس لیفٹیننٹ کرنل پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا، تاہم فوجی حکام نے قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کے بجائے داخلی انکوائری شروع کی اورپی او ایس ایچ قانون سمیت انٹرنل کمپلینٹس کمیٹی کے عمل کو مکمل طور پر نظر انداز کیا۔ متاثرہ افسر پر شکایت واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ یہ واقعہ کوئی پہلا نہیں بلکہ بھارتی فوج میں جاری اس منظم رجحان کی تازہ مثال ہے، جہاں خواتین افسران کو بارہا ہراسانی، تشدد اور ادارہ جاتی بے حسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
دس سال قبل ایک خاتون کپتان نے اپنے سینئر کرنل پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا، مگر کارروائی سست اور غیر مؤثر رہی۔ 2021 میں ایک میجر نے اپنے کوارٹرز میں 11 سالہ گھریلو ملازمہ سے زیادتی کی، اور انصاف صرف عدالتی مداخلت کے بعد ممکن ہوا۔ 2024 میں ایک خاتون افسر نے ونگ کمانڈر پر طویل ہراسانی اور جسمانی تشدد کا الزام لگایا مگر ملزم کو آسانی سے ضمانت مل گئی۔ اسی سال شلوں گ میں ایک بریگیڈیئر نے کرنل کی اہلیہ کو ہراساں کیا لیکن گرفتاری عمل میں نہ آئی۔ مدھیہ پردیش میں فوجی افسران کے ایک گروپ پر ہجوم پر حملہ اور جنسی زیادتی کا الزام لگا جبکہ اوڑیسہ میں کرنل امیت کمار نے سینئر جنرلز پر اپنی بیوی سے زیادتی کے الزامات لگائے مگر پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا۔
چندی گڑھ میں ایک کرنل کو دوسری افسر کی بیوی سے ناجائز تعلقات کے الزام میں برطرف کیا گیا۔ یہ تمام واقعات بھارتی فوج کے اندر موجود گہرے ادارہ جاتی مسائل، احتساب کی ناکامی،پی او ایس ایچ قانون کی خلاف ورزی، اور خواتین افسران پر دباؤ کے کلچر کو ظاہر کرتے ہیں۔ فوجی رینک اور اختیار کے غلط استعمال سے مجرموں کو تحفظ مل جاتا ہے جبکہ متاثرہ خواتین کو خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ عدالتی ریکارڈز اور بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 2015 سے 2025 تک سامنے آنے والے یہ کیسز اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارتی فوج کے اندر شفافیت، اخلاقی اقدار اور انصاف کا فقدان بڑھتا جا رہا ہے۔